menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ehtejaji Siasat, Awam Ka Kya Qasoor?

44 0
26.09.2026

احتجاجی سیاست، عوام کا کیا قصور؟

وہ فیملی کوایک سائیڈپربٹھاکر کافی دیر سے ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے، ان کی بے چینی اور بے قراری کو ہم نے کئی بار نوٹ کیالیکن پھر ہم آپس کی گپ شپ اور اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے۔ یہ ہمارے آبائی ضلع بٹگرام کے ویگن اڈے کا ایک منظر تھا۔ ہم چاردوست اڈے کے فرنٹ پر قائم ایک ہوٹل میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ وہی نوجوان دوڑتے ہوئے اچانک ہماری طرف آئے اور پشتو میں پوچھنے لگے۔ روراپنڈی اسلام آباد گاڑی بہ کم زائے نہ ملاوشی؟ یعنی بھائی راولپنڈی اسلام آبادکی گاڑی کہاں سے ملے گی؟

ہم نے سامنے پنڈی والے سٹینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاوہاں سے مل جائے گی۔ نوجوان نے بے بسی سے نفی میں سر ہلایا اور بولا۔ وہاں سے گاڑی نہیں جاتی۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے کنٹینر لگا کرتمام راستے بند کردیئے ہیں۔ ہماری ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے اورہمیں ہرحال میں راولپنڈی جاناہے۔ پنڈی میں میراخالہ زادبھائی چھت سے گر گیا ہے اوراس وقت ہسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں داخل ہے۔ ہمارا وہاں پہنچنا بہت ضروری ہے۔ میں نے یہاں اڈے میں ایک گاڑی والے سے بات کی تو وہ پنڈی تک بارہ ہزار روپے مانگ رہا ہے۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں۔

میرادل ودماغ پھٹ رہاہے، خداراآپ لوگ کچھ کریں۔ بظاہرتووہ نوجوان ہمارے آگے کھڑا تھامگر یوں لگ رہا تھاکہ جیسے وہ ہمارے آگے نہیں کسی بند راستے کے سامنے کھڑا ہو۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، لہجے میں التجا اور چہرے پر وہ بے بسی تھی جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ نہ پی ٹی آئی کا کارکن تھااورنہ حکومت کاکوئی مخالف۔ اس کے ہاتھ میں کوئی جھنڈابھی نہیں تھانہ اس کی زبان پرکوئی سیاسی نعرہ تھا۔ آپ یقین جانیں اس کے ہاتھ اورسینے پرکسی قائداورلیڈرکی تصویربھی نہیں تھی۔ اس کے پاس صرف ایک ضرورت تھی........

© Daily Urdu