Azad Kashmir, Nafrat Nahi Muhabbat
آزاد کشمیر، نفرت نہیں محبت
آزاد کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، سیاسی اہمیت اور باشعور عوام کے باعث ہمیشہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے، پاکستان کے عوام اورحکمرانوں نے ہمیشہ اپنے سے زیادہ اس کشمیراوریہاں کے عوام سے پیارکیا۔ پاکستان کابچہ بچہ جس طرح کشمیرپرجان نچھاورکرنے کے لئے تیارہے اسی طرح یہ آزادکشمیرکی فلاح، ترقی اورعوام کی خوشحالی کیلئے بھی ہرقربانی دینے کوتیاررہتے ہیں۔ بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف ریاست کے داخلی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ ایسے حالات بھی پیدا کردیئے ہیں جن سے بیرونی عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جمہوریت کی روح اختلاف رائے کو تسلیم کرنے میں ہے۔ عوام کو اپنے مطالبات پیش کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنے، مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور ایسے فیصلے کرے جن سے اعتماد بحال ہو۔ دوسری طرف احتجاج کرنے والوں کابھی یہ فرض بنتاہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لئے ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو اور ریاستی اداروں کے ساتھ کوئی تصادم پیدا نہ ہو۔ سب کوایک بات یادرکھنی چاہئیے کہ جب بھی کسی معاشرے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ ماردھاڑاورجلاؤگھیراؤمیں سب سے پہلانشانہ ہی عام شہری بنتاہے۔
احتجاج، مظاہروں اورہنگاموں میں عام شہریوں کانشانہ بننے کے ساتھ ان کے معمولات زندگی بھی بری طرح متاثراورتباہ ہوتے ہیں۔ کشیدگی سے بازار ویران، تعلیمی سرگرمیاں معطل اور........
