Tharak Nama
ٹھرکی ہمیشہ مرد ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ "ٹھرکی" کا لقب مفت مشورے کی طرح بانٹا جاتا ہے۔ بندہ چوک میں دو منٹ کھڑا رہ جائے، فون پر مسکرا دے، یا کسی خاتون کو ذرا غور سے دیکھ لے خواتین کی عدالت بغیر گواہ، بغیر وکیل، فوراً فیصلہ سنا دیتی ہے۔ "کمینہ ٹھرکی ہے"۔ بیچارے مرد کو اپیل کا حق بھی نہیں دیا جاتا تاہم یہی حرکت اگر خواتین کریں تو مقدمے کا عنوان بدل جاتا ہے۔ وہاں "ٹھرک" نہیں ہوتا، وہاں "نازک مزاجی" ہوتی ہے، "شوقین طبیعت" ہوتی ہے۔ ایک ہی جرم، دو الگ عدالتیں اور دونوں کی جج بھی وہی خواتین ہیں جو خود شادی میں سب کو اوپر سے نیچے تک "ناپ" چکی ہوتی ہیں۔
سالوں تک کتابیں ہمیں ایک بڑا سنہری اصول پڑھاتی رہیں۔ مرد فطرتاً بھٹکنے والا ہے اور عورت فطرتاً باوفا ہے۔ کسی نے یہ سبق شیرنی کو نہیں پڑھایا تھا۔ اپنے موسم میں شیرنی سو بار تک اور ایک نہیں کئی شیروں کے ساتھ، ملاپ کرتی ہے اور کوئی جنگل کی آنٹی اُس پر انگلی نہیں اٹھاتی۔ چھپکلی سے لے کر لومڑی تک، بے شمار مادہ جانور اِسی "کھلے دل" کے اصول پر چلتی ہیں۔ لگتا ہے وہ لیکچر جس دن ہو رہا تھا، جنگل والے چھٹی پر تھے۔ انسانوں میں بھی نمونہ حاضر ہے۔ روس کی ملکہ کیتھرین اعظم نے مبینہ طور پر........
