menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

The Stationary Shop Of Tehran

19 0
13.04.2026

دا سٹیشنری شاپ آف ایران

یہ کہانی ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے کافی پہلے کے دور کے گرد گھومتی ہے۔ اس وقت ایران کی عوام دو گروہوں میں بٹی ہوتی ہے۔ ایک گروہ ملک میں جمہوریت کا خواہاں ہے اور دوسرا شاہ کی بادشاہت کا۔

اس سیاست اور بغاوت کے ماحول میں ایک محبت کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس کہانی کی شروعات ہوتی ہے تہران میں واقع ایک اسٹیشنری شاپ سے۔۔ اس کا مالک مسٹر فخری ہوتا ہے۔

رویا اس دکان میں اسٹیشنزی کی چیزیں، ناول اور شاعری پڑھتی ہے۔ دکان کا مالک بھی اسے اچھی اچھی کتابیں نکال کے دیتا ہے۔ بہت ہی رومانوی اور ادبی سی سیٹنگ ہوتی ہے دکان کی۔ ایک دن مسٹر فخری رویا کو اپنے ایک اور پسندیدہ گاہک باھمان سے ملواتا ہے۔ وہ رویا کا ہم عمر ہی ہوتا ہے اور جمہوریت کے لیے شاہ کے خلاف ہوتا ہے۔

وہ دھرنے اور جلسوں میں جاتا ہے، تقریریں کرتا ہے۔۔ جمہوریت پسند لوگ اسے بہت عزت سے دیکھتے ہیں۔

رویا اور اس کے درمیان محبت کی کہانی........

© Daily Urdu