Sadar Trump Ka Daura e China
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین تجارتی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: "میرے خیال میں اس دورے سے بہت سی اچھی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ہم نے کچھ شاندار تجارتی معاہدے کیے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے بہترین ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے تناظر میں ٹرمپ نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی ہم ایران کے معاملے پر بالکل ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں کہ اس تنازعہ کو ختم ہونا چاہیے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے"۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا، تاہم وہ وہاں سے تیل کی خریداری جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ پر ایران کے معاملے پر چین سے مدد لینے کا دباؤ تھا، جس کا اثر مذاکرات کے مجموعی ماحول پر بھی دیکھا گیا۔
بعض سفارتی مبصرین نے صدر ٹرمپ کی باڈی لینگویج کوغیر معمولی حد تک نرم اور محتاط پایا۔ صدر ٹرمپ نے........
