Madina Se Baltistan Tak
اکثر لوگ پوچھتے ہیں مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن سکالرشپ پروگرام پورے ملک میں کام کر رہے تھے۔ پھر گلگت بلتستان اورسکردو سے بھی آگے انتہائی پسماندہ دیہات تک پراجیکٹس پھیلانے کی ضرورت کیوں کر پیش آئی؟ اس سوال کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک عمرہ کے دوران مسجد نبوی میں مجھے کچھ مدینہ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس ملے۔ ان میں سے ایک سٹوڈنٹ کا نام عبداللہ ناصر شگری تھا اور انہوں نے گزارش کی کہ میڈم آپ ہمارے علاقے میں بھی آئیں۔ وہاں بھی بہت غربت ہے اور وہاں بھی لڑکیوں کو ایجوکیشن سکالرشپ کی ضرورت ہے۔
میں نے ان کے ساتھ حامی بھر لی اور پھر جب میں جون 2021ء میں پاکستان گئی تو سکردو سے عبداللہ شگریُ کی کال آگئی اور سکردو آنے کی دعوت دی۔ میں زندگی میں گلگت بلتستان کبھی گئی اور نہ ہی گلگت کے علاوہ کسی شہر کے نام سے آشنا تھی۔ خاص طور پر شگر نام پہلی بار سنا تھا۔ لیکن مسجد نبوی میں کیا وعدہ سبب بنا اور امریکہ سے آئی اکیلی عورت انجان خطہ میں اجنبی لوگوں کے پاس چل دی۔ 2021ء گرمیوں میں جبکہ دنیا ابھی تک کرونا وائرس کا شکار تھی۔
میں نے لاہور سے سکردو کی فلائٹ لی، بلند و بالا پہاڑوں کا نظارہ کرتے ہوئے ایک گھنٹہ بعد سکردو ائیر پورٹ لینڈ کر گئی۔ باہر نکلی تو مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل عبداللہ شگری اپنی اہلیہ اور ننھے بچوں کے ہمراہ پھول اٹھائے کھڑے تھے۔ عبداللہ نے کرائے کی گاڑی لی اور اپنے چھوٹے سے گھر میں لے گیا۔ گھر کے حالات بتا رہے تھے کہ پورا ہفتہ رہنے کی آرزو دم توڑ دے گی۔ نہ انگریزی ٹائلٹ تھا نہ دیگر بنیادی سہولت۔ ان کے کلچر میں خاندان سردیوں میں کچن میں زمین پربستر لگا کر سوتے ہیں۔ ایک کمرے میں بیڈ رکھا تھا جو مجھے دے دیا گیا۔
سرد علاقوں کے چھوٹے بند گھروں میں بستروں اور گھر سے مخصوص بو آتی ہے۔ سرد علاقوں میں سفید پوش لوگوں کیبہت مسائل ہوتے ہیں۔ رات جیسے تیسے گزری، اگلے روز ضلع شگر جانا تھا۔ شگر میں عبداللہ کا آبائی گاؤں تھا۔ رات بھر میرے دماغ میں ٹوائلٹ کی تکلیف کا بوجھ رہا۔ سکردو شہر کیبازار سے گزرتے ہوئیعبداللہ شگری کو کموڈ خریدنے کی ہدایت دی۔ عبد اللہ نوجوانی میں شگر سے مدینہ یونیورسٹی چلا گیا تھا۔ انگریزی ٹائلٹ بھی اس نے سعودی عرب میں........
