Munh Wal Kaabe Shareef
قریباً تیرہ برس گزر گئے لیکن یہ واقعہ دماغ کے کینوس پہ آج بھی اپنی جزیات کے ساتھ نقش ہے۔ ایسے لگتا ہے ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب اس افسوس ناک سانحے سے گزرنا پڑا۔ بدیسی زباں انگریزی میں کہاوت ہے کہ پہننے والا ہی جانتا ہے کہ جوتا کہاں کاٹتا ہے۔ اسی طرح درد سےگزرنے والا ہی درد کی شدت، اذیت، تکلیف اور اضطراب کا اندازہ لگا سکتا ہے اور وہ بھی صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہے، درد کی کیفیت بیان کرنا اس کے بس میں بھی نہیں ہوتا۔ ایک مہربان کی آخری رسومات کا مرحلہ درپیش تھا۔ چند رشتے دار "بہت ہی بیرون ملک" سے آنے تھے تو جسد خاکی کو سردخانے میں رکھوا دیا گیا۔
دو دن کے بعد کفن دفن کی کاروائی کا آغاز ہوا۔ تمام رسومات نپٹا لی گئیں تو سب احباب گھر کے پیچھے چمن (لان) میں اکٹھا ہونا شروع ہوئے کہ نمازِ جنازہ کا اہتمام وہیں پہ کیا گیا تھا۔ نماز کے لئے صفوں کی ترتیب بنائی گئی اور امام صاحب کے لئے مصلہ بچھا دیا گیا۔ مصلے کی درست سمت کے لئے موبائل........
