menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Siasi Reech

25 0
22.07.2026

قدیم زمانے میں بادشاہ شہد نکالنے کے لیے ایک عجیب نسخہ آزماتے تھے۔ وہ جنگل میں موجود شہد کی مکھیوں کے چھتے کو کبھی لاٹھی سے نہیں چھیڑتے تھے، بلکہ ایک تربیت یافتہ ریچھ کو آگے کر دیتے تھے۔ ریچھ زور زور سے غرّاتا، چھتے پر پنجے مارتا، مکھیاں اسی سے الجھ جاتیں اور پیچھے کھڑا شکاری سکون سے شہد اتار کر لے جاتا۔ شام کو ریچھ کو بھی اس کے حصے کا شہد مل جاتا اور اگلے دن وہ پھر غصے کی اداکاری کے لیے تیار ہو جاتا۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ میں بھی کئی ریچھ گزرے ہیں۔ کچھ خاکی کھال میں، کچھ سفید شلوار قمیض واسکٹ میں اور کچھ عمامے باندھے ہوئے۔ مسئلہ تب ہوتا تھا جب ریچھ کو شہد سے مطلوبہ حصہ نہ مل پاتا۔ اس وقت ریچھ سچ میں غضبناک ہو کر منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے مکھیوں کے چھتے یا بادشاہ میں سے جس سمت منہ ہوتا حملہ کر دیتا۔

سنہ 2002 بھی ایک تماشہ تھا۔ مذہبی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے ہر تقریر میں سامراج کو دفن کرنا شروع کیا تھا، ہر تقریر میں آمریت کا جنازہ نکل رہا تھا اور ہر تقریر میں عوام کو یقین دلایا جا رہا تھا کہ بس اب ظلم کی دیوار گرنے ہی والی ہے۔ مگر جب اسمبلی کا دروازہ کھلا تو وہی ہاتھ جو جلسوں میں مکے بنے ہوئے تھے، ایوان کے اندر جا کر مصافحے کرنے لگے۔ جن لبوں پر "استعمار مردہ باد" تھا، انہی لبوں سے آئینی ترامیم کے حق میں........

© Daily Urdu