Najaiz Aslahe Se Pak Karen
ناجائز اسلحے سے پاک کریں
اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے افسر کا قتل افسوسناک واقعہ ہے۔ ملزم اپنی کولیگ لڑکی کو اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر کسی انجان مقام پر لے جا رہا تھا۔ لڑکی نے راستہ بدلنے پر اس سے بحث شروع کی۔ بحث زور زبردستی میں بدلی۔ اس زور زبردستی کو دیکھ کر گروپ کیپٹن عاصم نے مداخلت کی اور ہر جینٹلمین یہ سب دیکھ کر یہی کرتا۔ ملزم نے اپنے بیگ سے اسلحہ نکالا اور گروپ کیپٹن کو گولی مار دی۔ افسر کی موقعہ پر ہی شہادت ہوگئی۔ ملزم فرار ہوگیا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ گروپ کیپٹن عاصم کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کے تین چھوٹے بچے ہیں۔ یعنی ایک خاندان یتیم ہوگیا ہے۔ عاصم شہید بلاشبہ ہیرو ہے انہیں حکومت پاکستان صدارتی ایوارڈ سے نوازے۔
ملزم کے پاس اسلحہ تھا وہ بھی ناجائز۔ عاصم نہتا تھا۔ یہ فرق ہے اس سماج میں Law abiding citizen اور Outlaw کا۔ ملزم لڑکی کو انجان مقام پر لے جا کر اسلحے کے زور پر جو کر سکتا تھا وہ ایک الگ سانحہ ہوتا۔ لڑکی کی عزت ایک افسر کی جان کی قیمت پر بچی ہے۔ معاشرے میں اسلحہ کلچر ہے۔ یہ کلچر افغان وار سے پھیلانا شروع ہوا اور پھر سارے سماج کو کینسر کی طرح چاٹ گیا۔ پچھلے دس برسوں میں........
