Monitor Bechara Kya Kare?
مانیٹر بیچارہ کیا کرے؟
تازہ صورتحال کو اگر کسی ایک منظر میں سمیٹنا ہو تو یوں سمجھ لیجیے کہ ایک شور مچاتی کلاس ہے جہاں ہر بچہ اپنی جگہ استاد بنا بیٹھا ہے۔ کوئی کتاب پھاڑ رہا ہے، کوئی کرسی اچھال رہا ہے، کوئی دوسرے پر پنسل اُچھال رہا ہے اور اس ہنگامے میں ایک بچہ ہے جو مانیٹر بنا ہوا ہے۔ اس کا نام پاکستان ہے۔ اُدھر فیلڈ مارشل خود ایران پہنچ گئے ہیں۔ یعنی اب فیلڈ مارشل کا "فیلڈ وزٹ" بھی ہوگیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم نے بھی سہ ملکی ٹور پلان بنا لیا ہے۔ گویا ایک ٹیم گراؤنڈ میں ہے اور دوسری نیٹورکنگ پر لگی ہوئی ہے۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جو شادیوں میں استعمال ہوتی ہے۔ ایک بندہ مہمانوں کو سنبھالتا ہے، دوسرا کھانے کا انتظام دیکھتا ہے۔
لیکن اصل مزہ تو تب آتا ہے جب آپ "سپائلرز" کو دیکھتے ہیں۔ کہیں اسرائیل ہے جو ہر پلان میں کوئی نہ کوئی پھڈا ڈالتا ہے، کہیں امریکا ہے جو خود ہی اپنی بات سے مکرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور کہیں ایران ہے جو ہر بات پر کہتا ہے کہ ہم مان جائیں گے مگر ہماری شرطوں پر۔ یعنی پوری کلاس میں شرارتی بچے بیٹھے ہیں ہر ایک اپنی مرضی سے شور مچا رہا ہے۔
اب مانیٹر بیچارہ کیا کرے؟ ایک کو چپ کرائے تو دوسرا شور شروع کر دیتا ہے۔ ایک کو بٹھائے تو دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے۔ پھر بھی وہ پوری........
