menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran, White Revolution Aur Inqilab

48 0
24.03.2026

ایران، وائٹ ریولوشن اور انقلاب

ستر کی دہائی کا ایران ایشیا میں چمکتا دمکتا ہیرا تھا۔ عرب اسرائیل جنگ کے دوران جب عربوں نے امریکا کو تیل دینے سے انکار کر دیا تو امریکی مفادات پہلے سے زیادہ ایران سے وابستہ ہو گئے۔ شاہ ایران عربوں کے خلاف امریکا کی ہر ضرورت پوری کر رہا تھا۔ امریکی گلہ ایرانی تیل سے تر تھا۔ جمی کارٹر صدر بنے تو اس نے شاہ کو خطے میں استحکام کا جزیرہ قرار دے دیا۔ لیکن اندر ہی اندر عوامی غصہ لاوے کی صورت پک رہا تھا۔ اس لاوے کو دہکانے کا ذمہ آیت اللہ خمینی صاحب کے پاس تھا جو سنہ 64 سے جلاوطن ہو کر عراق گئے اور انقلاب سے قبل کے آٹھ ماہ پیرس کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر رہے۔

خمینی صاحب شاہ کی حکومت کے سخت خلاف تھے۔ وہ مذہبی نمائندے تھے اور عوام میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ان کے بیانات سے تنگ آ کر شاہ ایران نے ان پر زمین تنگ کر دی اور بلآخر ان کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ پیرس میں قیام کے دوران خمینی صاحب اپنی رہائش گاہ پر لیکچرز دیتے جو کیسٹ پر ریکارڈ ہوتا اور وہ کیسٹس ایران میں سمگل کی جاتیں۔ پھر ان کی ہزاروں کاپیاں بن جاتیں اور لوگوں میں تقسیم ہو جاتیں۔

سنہ 1963 میں شاہ نے ایک منصوبہ "وائٹ ریولوشن" شروع کیا جس میں زمین کی اصلاحات، تعلیم، خواتین کے حقوق اور شہری ترقی شامل تھی۔ تیل کی فروخت نے اس پروگرام کو مالی قوت دی، خاص طور پر 1973 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد جب ایران نے عرب تیل پابندی میں شامل ہونے سے انکار کیا تو تیل کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا۔ 1975 تک شرحِ خواندگی دگنی ہو کر 32 فیصد ہوگئی، ایک نیا متوسط طبقہ ابھرا، خواتین کو ووٹ کا حق ملا اور قوانین زیادہ سیکولر ہوتے گئے۔ لیکن ایران جمہوری ریاست نہیں تھا۔ شاہ نے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں مرکوز کر لیا۔ اس نے وفادار مگر کمزور وزراء مقرر کیے، سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی اور 1975 میں رستاخیز پارٹی کے ذریعے ایک جماعتی نظام نافذ کر دیا۔ شاہ کی خفیہ پولیس (SAVAK) نے مخالفین کو کچل دیا جن میں نیشنل فرنٹ اور کمیونسٹ تودہ پارٹی شامل تھیں۔

اگرچہ وائٹ ریولوشن سے شہری اور سیکولر طبقے کو فائدہ ہوا مگر معاشرے کے دیگر حصے اس سے ناراض تھے۔ تیز رفتار ترقی کے ساتھ مہنگائی، بدعنوانی، آمدنی میں عدم مساوات اور سماجی کشیدگی بھی بڑھ گئی۔ دیہات سے شہر آنے والے مزدوروں کو جلد ہی احساس ہوا کہ وہ شاہ کی پالیسیوں سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ حکومت نے تیل کی آمدنی کا بڑا حصہ صنعت اور فوج پر خرچ کیا، جبکہ دیہی علاقوں کو نظرانداز کیا گیا۔ 1975 کے بعد جب تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تو بے روزگاری اور بدعنوانی میں اضافہ ہوا اور لوگ شاہ کے خلاف کھل کر بولنے لگے۔ شاہ نے امریکا کی مدد سے دنیا کی پانچویں بڑی فوج کھڑی کر لی تھی جس کے پاس جدید امریکی اسلحہ اور طیارے تھے۔

شاہ کی مخالفت مختلف شکلوں میں سامنے آئی۔ بائیں بازو کے دانشور، قوم پرست اور مارکسسٹ گروہ شاہ کی مطلق العنانیت اور امریکی مداخلت کے خلاف متحد ہونے لگے۔ کچھ تنظیمیں فدائین خلق اور مجاہدین خلق مسلح........

© Daily Urdu