menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Haji Mastan (1)

16 0
27.07.2026

برصغیر کی جرائم پیشہ تاریخ میں اگر کسی نے غربت کی گہرائیوں سے اٹھ کر شہر کی معیشت، سیاست اور سماج پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے تو اس میں حاجی مستان کا نام نمایاں ہے۔ وہ نہ کسی آسودہ خاندان میں پیدا ہوا، نہ اس کے پاس سرمایہ تھا اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو غربت کا تلخ تجربہ، محنت کی عادت اور امیر بننے کی بے پناہ خواہش اور اسی خواہش نے حاجی مستان کو بمبئی انڈرورلڈ کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔

حاجی مستان کی پیدائش ایک غریب کسان خاندان میں ہوئی۔ زرعی آمدنی اتنی کم تھی کہ اس کے والد کے لیے خاندان کا گزارہ کرنا مشکل ہوگیا۔ لاکھوں دوسرے ہندوستانیوں کی طرح انہوں نے بھی روزگار کی تلاش میں بمبئی کا رخ کیا۔ بمبئی نے انہیں دولت نہیں بلکہ سخت محنت دی۔ باپ بیٹا سائیکلوں کی مرمت کی ایک معمولی دکان پر دن بھر کام کرتے مگر آمدنی اتنی کم تھی کہ غربت جوں کی توں رہی۔ اسی دوران کم عمر مستان نے پہلی مرتبہ دولت اور غربت کے درمیان وہ واضح فرق دیکھا جو بمبئی کی شناخت تھا۔ ایک طرف فلم سٹارز و سیاستدانوں کے محلات، چمکتی ہوئی امریکی گاڑیاں اور سینما گھروں کی رنگین دنیا، دوسری طرف کچی بستیاں، مزدور اور دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اگر زندگی نے موقع دیا تو وہ صرف زندہ نہیں رہے گا بلکہ طاقت اور دولت دونوں حاصل کرے گا۔ (حاجی مستان کے کچھ انٹرویوز یوٹیوب پر موجود ہیں۔ یہ باتیں اسی کی زبانی ہیں)۔

سنہ 1944 میں اس نے بمبئی پورٹ پر قلی کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ یہی بندرگاہ بعد میں اس کی قسمت بدلنے والی تھی۔ روزانہ دنیا بھر سے آنے والے جہاز، درآمدی سامان، کسٹم کے قوانین اور ان قوانین سے بچنے کی کوششیں اس کے سامنے ایک نئی دنیا کھول رہی تھیں۔ چند برسوں میں اس نے یہ سمجھ لیا کہ اصل دولت محنت میں نہیں بلکہ تجارت کے ان راستوں میں ہے جہاں قانون اور منافع آمنے سامنے کھڑے ہوں۔ اسی ماحول میں اس کی ملاقات عرب تاجر شیخ محمد الغالب سے ہوئی جس نے اسے اسمگلنگ کے ابتدائی طریقے سکھائے۔ ابتدا میں کام معمولی تھا۔ چند گھڑیاں، سونے کے بسکٹ یا ریڈیو سیٹ کسٹم سے بچا کر نکالنا۔ مگر یہی چھوٹے کام آگے چل کر ایک منظم مجرمانہ معیشت کی بنیاد بنے۔

ایک واقعے نے مستان کی شخصیت کو نئی شناخت دی۔ بندرگاہ پر ایک مقامی غنڈا مزدوروں سے بھتہ وصول کرتا تھا۔ مستان نے پہلی مرتبہ مزدوروں کو متحد کیا اور اس غنڈے کو مار بھگایا۔ اس کامیابی نے اسے مزدور رہنما کے طور........

© Daily Urdu