Empathy
میری ہر معاملے بالخصوص مذہب اور سیاست میں یہ اپروچ رہی ہے کہ میں مدِّمقابل کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں جس کو کمیونیکیشن کی زبان میں "Empathy" کہتے ہیں۔ کسی بھی موضوع پر تبصرہ کرنے کے لئے آپ کو اس خاص عقیدت کی باؤنڈری سے نکلنا پڑتا ہے تاکہ آپ کی بات غیر حانبدار، معتدل اور حقیقت پر مبنی ہو۔
مثلاً مذہبی معاملات میں غیر مُسلموں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں، یعنی میری کوشش ہوتی ہے کہ اسلام کو اس طرح سے پیش کروں کہ وہ ان کے لئے قابلِ فہم اور قابلِ قبول ہو۔ ایک ملحد یا مُنکِر کو ذہن میں رکھ کر مذہبی تفسیر بیان کرتا ہوں تاکہ اسلامی عقائد و فقہی معاملات منطقی و عقلی پیرائے میں پیش کر سکوں۔
مثلاً توحید کا عقیدہ پیش کرتے ہوئے میں ایک موحّد کے طور پر نہیں، بلکہ یہ سوچ کر بیان کرتا ہوں کہ خدا کو نہ ماننے والے یا مشرک کے سامنے اسے کس طرح سے پیش کیا جائے کہ اس کے لئے قابلِ قبول بن جائے اور یہی........
