menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Smoke Free Generation

26 0
24.04.2026

مہذب ممالک اپنے شہریوں کو بہتر ماحول مہیا کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ان کے پالیسی ساز اور تھنک ٹینک اپنے عوام کے مسائل کے حل تلاش کرتے ہیں اور پھر اسے قانون کا درجہ دے دیتے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ نے اپنے ایسے ہی ایک قانون کے ذریعے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس وقت دنیا میں یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ کیا ریاست اس طرح بھی کام کر سکتی ہے جیسے برطانوی حکومت کر رہی ہے۔

دراصل برطانوی پارلیمنٹ نے ایک ایسا تاریخی قانون منظور کرنے کی جانب قدم بڑھایا ہے جس کا مقصد ملک کی آنے والی نسل کو تمباکو کے زہر سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنانا ہے۔ اس قانون کو "تمباکو اینڈ ویپس بل" کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت 2009 کے بعد پیدا ہونے والے کسی بھی فرد کو پوری زندگی قانونی طور پر سگریٹ فروخت نہیں کی جا سکے گی۔ یہ دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے جہاں سگریٹ نوشی کی قانونی عمر کو ہر سال کے بعد ایک سال بڑھا دیا جائے گا تاکہ تمباکو نوشی خود بخود ختم ہو جائے۔ برطانیہ کا یہ خواب ہے کہ وہ اپنی جوان ہونے والی نسل کو ایک "سموک فری جنریشن" بنائے۔

برطانوی حکومت محض سگریٹ کے پیکٹ پر تنبیہ لکھ کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہونا چاہتی بلکہ وہ مستقل بنیادوں پر تمباکو نوشی کی جڑیں کاٹ رہی ہے۔ برطانوی اعداد و شمار کے مطابق وہاں ہر پانچ میں سے چار سگریٹ نوش 20 سال کی عمر سے پہلے ہی اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر سگریٹ یا تمباکو کی فراہمی کے راستے ہی بند کر دئیے جائیں تو کینسر اور دل کے امراض جیسی مہلک بیماریوں سے ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اس قانون میں صرف........

© Daily Urdu