menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qataar Mein Khare Hone Ki Qeemat

27 0
15.10.2026

قطار میں کھڑے ہونے کی قیمت

چھٹیوں کی بھیڑ سے ایک گھنٹہ پہلے ریل کے ٹکٹ گھر کی کھڑکی کا تصور کیجیے۔ چالیس لوگ ایک ایسی قطار میں کھڑے ہیں جو بیس منٹ سے ایک انچ نہیں سرکی۔ سب سے آگے استری شدہ کلف لگی قمیض والا ایک آدمی بغلی دروازے سے اندر جھکتا ہے، کسی کزن کا نام دھیرے سے بڑبڑاتا ہے اور چھ ٹکٹ لے کر چلتا بنتا ہے۔ کوئی شور نہیں مچاتا۔ ایک آدھ شخص، مجھے شبہ ہے، دل ہی دل میں حساب لگا رہا ہے کہ اگلی بار کسے فون کرے۔ شام تک قطار چھٹ چکی ہوگی اور سوشل میڈیا کو ہفتے بھر کا موضوع مل چکا ہوگا: اخلاقیات کا انہدام۔

ایسی کہانیاں ہم عموماً اسی طرح سناتے ہیں۔ چالاک آدمی ولن ہے، قطار میں کھڑا شخص ولی اور سبق یہ کہ باقی سب کو بھی ولی بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ سبق میں نے منبروں سے سنا ہے اور ادب و صحافت میں پڑھا ہے۔ مگر جب دوا کا ایک ہی نسخہ دہائیوں سے لکھا جا رہا ہو اور ایک بھی مریض شفایاب نہ ہوا ہو، تو سمجھ دار آدمی مریض کے پرہیز پر سوال اٹھانا چھوڑ دیتا ہے اور دوائی کی شیشی پر چھپا نام پڑھنا شروع کرتا ہے۔

اس نسخے کی خرابی یہ ہے کہ اس نے سفر کی سمت الٹی سمجھ لی ہے۔ وہ فرض کر لیتا ہے کہ نیکی انجن ہے اور معاشرہ وہ مشین جسے یہ انجن چلاتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور سماجیات کی تحقیق کا بڑا حصہ اس کے برعکس اشارہ کرتا ہے۔ رویہ ترغیبات کے پیچھے یوں چلتا ہے جیسے لوہے کا برادہ مقناطیس کے پیچھے۔ لوگ جلد سیکھ لیتے ہیں کہ کس چیز کا صلہ ملتا ہے اور کس کی قیمت دینی پڑتی ہے اور ہم میں سے بیشتر، زیادہ تر دنوں میں، وہی کرتے ہیں جو موجودہ بندوبست میں سب سے کم تکلیف دہ ہو۔

سکّے کی تاریخ یہ سبق بہت پہلے دے چکی ہے۔ ٹیوڈر دور کے مالیاتی ماہر تھامس گریشم سے منسوب اصول کے مطابق کھوٹے سکّے کھرے سکّوں کو گردش سے باہر کر دیتے ہیں، کیونکہ ہر کوئی اچھا سکّہ سنبھال کر رکھتا ہے اور کھوٹا خرچ کر دیتا ہے۔ چار صدیوں بعد جارج اکرلاف نے 1970 کے ایک مقالے میں استعمال........

© Daily Urdu