menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nawab Sir Fazal Ali: Jageer Jo Ilm Ke Naam Hui

20 0
30.10.2026

نواب سر فضل علی: جاگیر جو علم کے نام ہوئی

ہر صبح گجرات کے زمیندار کالج کے خورشید گیٹ سے طلبہ و طالبات کا ریلا گزرتا ہے اور دروازے کے بالکل اندر، مرکزی عمارت کے سامنے، ایک قبر کے پاس سے نکل جاتا ہے۔ وہاں نہ کوئی مجسمہ ہے، نہ پرچم کا مینار۔ بس ایک قبر ہے اور اس کے پہلو سے روز ہزاروں قدم گزرتے ہیں۔ پتھر کے نیچے نواب سر فضل علی آسودہ ہیں، جو 30 اکتوبر 1942ء کو رخصت ہوئے اور اپنی ہی تخلیق کے صدر دروازے پر دفن ہوئے، گویا بانی کو اس کا پاسبان بنا دیا گیا ہو۔ کل اس بات کو چوراسی برس ہو جائیں گے۔

اس قبر کی عظمت وہی جان سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ یہاں پہلے کیا تھا۔ دریائے چناب کے کنارے یہ ضلع "خطۂ یونان" کہلاتا تھا، مگر 1911ء میں اس کے صرف 3.1 فیصد لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور پورے ضلع میں ایک کالج نہ تھا۔ لقب ایک یاد تھا، حقیقت ایک سناٹا۔ اس سناٹے میں جس نے چراغ رکھا، اس کے اپنے ہاتھ میں کوئی سند نہ تھی۔

فضل علی چار برس کے تھے جب اجنالہ کے زیلدار، ان کے والد، چل بسے اور منصب سب سے چھوٹے بیٹے کے نام کر گئے۔ چچا نے پالا اور چچا کو بدلتے وقت کی آہٹ سنائی دیتی تھی۔ ضلع کا واحد مشن اسکول ختم ہوا تو آگے راستہ نہ تھا، کیونکہ گجرات میں ہائی اسکول ہی نہ تھا۔ سو انہیں علی گڑھ بھیجا گیا، سرسید کے کالج میں۔ وہاں کرکٹ کے میدان نے انہیں کتاب سے زیادہ تھامے رکھا اور وہ ڈگری کے بغیر لوٹ آئے۔ مگر سرسید کا خواب ساتھ لائے اور اسے اپنی زندگی کا حاصل بنا لیا۔ ورثے میں انہیں ایک منصب ملا تھا، انہوں نے اسے ایک خطے کی امانت بنا دیا۔

یہ بات سنہری حرفوں میں لکھنے کے لائق ہے کہ انہوں نے کام جماعتوں سے نہیں، کسان کے پاؤں سے شروع کیا۔ 1907ء میں اجنالہ میں کوآپریٹو سوسائٹی بنی، جس کے بینک اور چھوٹے........

© Daily Urdu