Israeli Ki Jarhiyat, Lebanon Ki Aag Aur Mashriq e Wusta Ka Naya Imtehan
اسرائیل کی جارحیت، لبنان کی آگ اور مشرق وسطی کا نیا امتحان
تاریخ کے کچھ دن عام نہیں ہوتے۔ وہ کیلنڈر کے صفحات پر نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر پر لکھے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں جنگ کی پہلی گولی سرحد پر چلتی ہے لیکن اس کی آخری بازگشت عالمی معیشت، سیاست اور انسانی زندگیوں میں سنائی دیتی ہے۔ گزشتہ چند روز میں اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان اور بیروت کے نواحی علاقوں میں متعدد حملے کیے جن کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے، خواتین اور ایک ہی خاندان کے کئی افراد شامل تھے۔ ان تصویروں نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا کہ جنگ کبھی صرف فوجیوں کو نہیں مارتی، یہ گھروں، خوابوں اور مستقبل کو بھی ملبے تلے دفن کر دیتی ہے۔ لبنان کے لیے یہ کوئی نیا منظر نہیں۔
1982ء میں اسرائیلی ٹینک بیروت کی گلیوں تک پہنچ گئے تھے۔ اس جنگ نے ہزاروں جانیں لیں اور ایک نئی مزاحمتی قوت حزب اللہ کو جنم دیا۔ آج چوالیس سال بعد تاریخ ایک بار پھر اسی دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار خطہ پہلے سے کہیں زیادہ بارود، میزائلوں اور سیاسی نفرتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف حزب اللہ کے عسکری مراکز ہیں، لیکن لبنان کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں میں عام شہری مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑی فوجی مہم کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
مارچ 2026 سے اب تک لبنان میں کشیدگی کے نتیجے میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 3400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔۔ اپریل 2026 اس بحران کا سب سے خونچکاں باب ثابت ہوا، جب اسرائیل نے لبنان پر اپنے حالیہ تاریخ کے شدید ترین فضائی حملے کیے۔ لبنانی میڈیا نے اس دن کو"بلیک ویڈنزڈے"کا نام دیا، ایک ایسا دن جس میں صرف 24 گھنٹوں کے اندر 357 افراد جان سے گئے اور 1,223 زخمی ہوئے۔ عالمی سطح پر اس کارروائی نے شدید ردعمل پیدا کیا اور بیس سے زائد ممالک نے کھل کر اس کی مذمت کی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ سفارتی بیانات بندوقوں کی گھن گرج کو کم نہ کر سکے۔
دلچسپ اور اہم پہلو یہ ہے کہ اپریل 2026 میں امریکہ کی ثالثی سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جو عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، وہ کئی دہائیوں بعد پہلا موقع تھا جب دونوں فریقین نے براہِ راست........
