menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran, America Mafahmati Yaddasht

12 0
previous day

ایران، امریکہ مفاہمتی یادداشت

دنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ایک خبر لگتے ہیں لیکن دراصل وہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی چابی ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جو نیا سفارتی فریم ورک زیرِ بحث ہے، وہ بھی اسی نوعیت کا ایک موڑ ہے۔ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے کی دشمنی، پابندیوں، پراکسی جنگوں اور باہمی عدم اعتماد کے بعد اب دونوں فریق ایک ایسی میز پر بیٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں الفاظ گولیوں کی جگہ لے رہے ہیں اور مفاہمت طاقت کی نئی زبان بن رہی ہے۔

یہ بات بھی اب زیادہ پوشیدہ نہیں رہی کہ اس پورے عمل میں صرف دو ملک نہیں بلکہ کئی خاموش کردار بھی شامل ہیں۔ قطر اور پاکستان ان میں نمایاں ہیں۔ قطر نے گزشتہ برسوں میں خود کو ایک ایسے سفارتی مرکز کے طور پر منوایا ہے جہاں بڑے تنازعات کے ابتدائی رابطے بنتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان غیر رسمی پیغامات، حساس سفارتی اشارے اور ابتدائی اعتماد سازی میں دوحہ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ ایک متوازن مؤقف رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف ایران کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو برقرار رکھا بلکہ امریکہ کے ساتھ بھی روابط کو اس سطح پر رکھا کہ وہ ایک غیر رسمی پل کا کردار ادا کر سکے۔

اصل کہانی مگر اس وقت زیادہ گہری ہو جاتی ہے جب ہم اس مجوزہ معاہدے کے معاشی اور اسٹریٹجک پہلو کو دیکھتے ہیں۔ یہ صرف جنگ بندی یا سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ایک بڑے اقتصادی ری آرڈرنگ کی کوشش ہے۔ اندازہ ہے کہ ایران........

© Daily Urdu