Bijli Ka Bill Ya Awam Ki Azmaish
بجلی کا بل یا عوام کی آزمائش
کبھی بجلی کا بل صرف ایک ذمہ داری تصور ہوتا تھا آج یہ بوجھ لاکھوں پاکستانی گھروں میں پورے مہینے کی آمدنی کے نظام میں بگاڑ بڑھتے اخراجات اور بچت کا قاتل بن چکا ہے۔ کبھی تو حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کو اپنی بہو بیٹیوں کے کانوں کی بالیاں بیچ کر بل جمع کروانے پڑتے ہیں کہیں بچوں کی فیس مؤخر ہوتی ہے کہیں علاج رک جاتا ہے کہیں راشن کم ہوتا ہے اور کہیں محدود آمدنی رکھنے والا شخص صرف بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے اپنی دوسری ضروریات قربان کر دیتا ہے۔
بجلی کی تاریں تو روشن ہیں مگر عوام کے بجٹ میں اندھیرا بڑھتا جا رہا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ بجلی مہنگی کیوں ہے اصل سوال یہ ہے کہ ایک بنیادی ضرورت کی قیمت اس مقام تک کیوں پہنچ گئی کہ وہ عام آدمی کے لیے معاشی آزمائش بن گئی۔ بجلی صرف پنکھا، بلب، فریج یا اے سی چلانے کا نام نہیں یہ کارخانے، ہسپتال، اسکول، دکان، ٹیوب ویل، دفتر اور روزگار کا پہیہ چلاتی ہے۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ صنعت کی پیداواری لاگت کاروباری اخراجات اشیا کی قیمتیں اور برآمدی مسابقت بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یوں مہنگی بجلی کا بل صرف ایک گھر نہیں بلکہ پوری معیشت ادا کرتی ہے کیونکہ صنعت کی لاگت بالآخر مصنوعات کی قیمت اور صارف کی جیب تک پہنچتی ہے۔
پاکستان کا المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت موجود ہے مگر اس صلاحیت کے استعمال طلب معاہدوں اور قیمت کے درمیان توازن ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ جب طلب کم ہو اور پیداواری صلاحیت کے اخراجات برقرار رہیں تو نظام پر مالی دباؤ بڑھتا ہے اور بالآخر اس کی قیمت صارف ادا کرتا ہے۔ جب مشینیں کھڑی ہوں اور لاگت چلتی رہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بل آخر کون بھرے گا اس لیے توانائی پالیسی کا مقصد صرف مزید بجلی پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ موجودہ پیداواری صلاحیت کو مؤثر کم لاگت اور شفاف انداز میں استعمال کرنے کا سسٹم بھی ہونا چاہیے۔
یہیں آئی پی پیز کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ اس موضوع پر سیاسی نعروں کے بجائے اعدادوشمار معاہدوں اور شفاف حساب کتاب کی ضرورت ہے۔ ہر بڑے بجلی گھر کے بارے میں عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی پیداواری صلاحیت کتنی ہے حقیقی پیداوار کتنی ہے فی یونٹ لاگت کیا ہے ادائیگی کی استعداد کس بنیاد پر ہے اور قومی خزانے پر اس کا مجموعی اثر کیا ہے۔ نجی سرمایہ کار کے جائز حقوق کا تحفظ ضروری ہے، مگر صارف اور قومی خزانے کے مفادات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ حکومت کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں صارفین اور قومی خزانے پر 3400 ارب روپے کا مجموعی مالی بوجھ........
