Wazir e Aala Ka Raqs Aur Awam Ki Halat e Zar
وزیرِ اعلیٰ کا رقص عوام کی حالتِ زار
رقص کوئی جرم نہیں شادی خوشی کا موقع ہوتی ہے خوشی منانا انسانی فطرت ہے ایک عام آدمی شادی میں خوشی سے جھومے رقص کرے گائے یا دوستوں کے ساتھ خوشیاں بانٹے تو اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے مگر سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عام آدمی اور ایک بڑے منصب پر بیٹھے شخص کے طرزِ عمل میں فرق باقی نہ رہے۔ چند روز قبل گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی ایک شادی کی تقریب میں رقص کی ویڈیو سامنے آئی جہاں موصوف گلگت بلتستان کے محروم لوگوں کی حالت سے بے خبر ہوکر خوب ناچ رہے ہیں۔ ویڈیو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے اسے خوشی کا ایک معمولی لمحہ سمجھا ہوگا مگر میرے لیے یہ محض رقص کی ویڈیو نہیں تھی اس کے پیچھے گلگت بلتستان کی وہ پوری تصویر کھڑی تھی جس میں ایک طرف اقتدار کے ایوانوں میں خوشیاں ہیں اور دوسری طرف عوام بجلی، روزگار، مہنگائی، صحت، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے مسائل میں گھری ہوئی ہے یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ وزیرِ اعلیٰ نے رقص کیوں کیا؟
اصل سوال یہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کو اپنے منصب کا احساس کب ہوگا۔ منصب انسان سے اس کی ذاتی خوشیاں نہیں چھینتا لیکن منصب انسان سے اس کے رویے میں ایک اضافی ذمہ داری ضرور مانگتا ہے۔ ایک وزیرِ اعلیٰ صرف ایک فرد نہیں رہتا وہ پورے خطے کی علامت بن جاتا ہے اس کے معمولی سے معمولی عمل کو بھی عوام اپنے حکمران کے مزاج ترجیحات اور احساسِ ذمہ داری سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور گلگت بلتستان کوئی عام صوبہ بھی نہیں کہ جس کے مسائل معمولی نوعیت کے ہوں یہ ایک ایسا خطہ ہے جس کے آئینی مستقبل پر دہائیوں سے سوالات موجود ہیں۔ یہاں کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا مگر آج بھی ان کے سامنے سیاسی و آئینی شناخت کا مسئلہ موجود ہے۔ ایسے خطے کا وزیرِ اعلیٰ جب کسی شادی میں خوشی مناتا ہے تو........
