Tariyon Se Tarlon Tak Molana Ki Inqilabi Siasat Ka Anjam
تڑیوں سے ترلوں تک مولانا کی انقلابی سیاست کا انجام
سیاست بھی عجیب تماشہ ہے یہاں کل تک جو لہجے پہاڑوں سے ٹکراتے تھے گرج چمک سے جو سر آسمان سے اٹھائے ہوئے شعلہ بیاں تقریروں سے لفاظیت بھرے ہوائی لفظوں سے ماحول گرمائے انقلابی بنے نظر آتے تھے آج وہی لہجے دروازوں پر دستک دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ جو کل تک آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے کا ہنر جانتے تھے آج ان کی زبان پر مصلحتوں کی مٹھاس اور لہجے میں درخواستوں کی نرمی محسوس ہوتی نظر آتی ہے سیاست کے اس بدلتے موسم میں مولانا کا سفر بھی ایک دلچسپ سوال بن کر سامنے آیا ہے آخر تڑیوں سے ترلوں تک کا یہ سفر کیوں طے ہوا؟ جزبات کیوں جلدی پگل گئے یا ڈھیر ہوگئے آگے بڑھتے اور انکا مقابلہ کرتے تاکہ کچھ تو حاصل ہوتا اور عوام کو بھی کچھ خوشی ہوتی کہ واقعی مولانا نے ظالموں کا مقابلہ کیا ان سے ٹکر لی مگر سب جانتے ہیں چالیس پینتالیس سال سے عسکری چوریاں کھانے والوں میں۔ یہ کہاں دم ہے کہ وہ حق کے سفر کا مسافر بنیں۔
ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں لسی ہے البتہ سیاسی موسموں کے شناسا جانتے تھے کہ بعض اوقات تڑیوں کی گرج کسی اصولی طوفان کا پیش خیمہ نہیں ہوتی بلکہ سیاسی سودے بازی کی تمہید ہوتی ہے جب تک دباؤ کی سیاست سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی امید رہتی ہے انقلابی لہجہ برقرار رہتا ہے لیکن جب حالات کا رخ بدلنے لگے تو انقلاب کی جگہ مفاہمت للکار کی جگہ درخواست اور مزاحمت کی جگہ مصلحت لے لیتی ہے۔ مولانا کی سیاست کا بنیادی سوال بھی یہی ہے کہ کیا سیاست واقعی اصولوں کی پاسداری کا نام ہے یا اقتدار کی بساط پر اپنی جگہ محفوظ رکھنے کا فن؟ برسوں سے پاکستانی سیاست میں ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے رہے ہیں جہاں عوام کے حقوق، جمہوریت کی بالادستی اور آئین کی سربلندی کے نعرے بلند ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی........
