menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sach Ki Talash Mein Bhatakta Qalam

25 0
02.05.2026

سچ کی تلاش میں بھٹکتا قلم

کالم لکھنے بیٹھا ہوں مگر لفظ جیسے روٹھ گئے ہیں۔ قلم ہاتھ میں ہے کاغذ سامنے مگر ذہن موجودہ ملکی حالات کو دیکھ کر الجھ چکا ہے۔ ایک ہجوم خیال بن چکا ہے خیالات کا سوالوں کا اور اُس بے بسی کا جو ہر سچ لکھنے والے کے اندر کہیں نہ کہیں سر اٹھاتی ہے۔ میرے سامنے بے بس قوم بھی ہے جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی کمر ٹوٹی ہوئی جو آئے روز پیٹرول بم سے متاثر ہے انکا نوحہ لکھوں یا انکی غلامی کا ماتم۔ سوچتا ہوں کہاں سے آغاز کروں کیا سیاسی منافقت سے شروع کروں جہاں کل کے دشمن آج بغل گیر ہیں یا ججوں کے تبادلوں سے جہاں انصاف کا ترازو خود توازن کھوتا نظر آتا ہے یا پھر اُس خاموش خوف سے جو ایوانوں میں بیٹھے چہروں سے جھلکتا ہے۔

یہ کیسا ملک بن گیا ہے جہاں سچ لکھنا بھی ایک معرکہ محسوس ہوتا ہے بلکہ گناہ کبیرہ بن گیا ہے۔ لکھتے وقت جہاں لفظوں کو تولنا پڑتا ہے اور جملوں کو چھاننا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی سچ زیادہ واضح نہ ہو جائے جسکو توہین بن کر سزا بن جائے ہر طرف سے خوف ہے خوف کے سائے میں لفظ بھی الجھ جاتے ہیں ہاتھ بھی کانپ جاتا ہے۔

میں ایک ادنیٰ سا لکھاری ہوں نہ میرے پاس بڑے دعوے ہیں نہ بڑی پہنچ بس ایک بے چین دل ہے جس میں درد ہے اور ایک قلم جو کبھی کبھی میرے بس میں نہیں رہتا جو لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ منظر عجیب ہے ایک قیدی ہے اکیلا مگر اُس کا ذکر ہر محفل میں ہے اور ایک پورا نظام ہے جماعتیں ادارے، اتحاد مگر اُن کے لہجوں میں اعتماد نہیں انکے اندر ایک انجانا سا خوف ہے یہ خوف کس بات کا ہے ایک ایسے شخص کا جو سلاخوں کے پیچھے ہے یا اُس سوچ کا جو سلاخوں سے باہر ہے۔ میں لکھنا چاہتا ہوں مگر ڈرتا نہیں ہاں الجھتا ضرور ہوں کیونکہ یہ صرف سیاست نہیں یہ ضمیر کا سوال بھی ہے۔

کبھی لگتا ہے سب کچھ لکھ دوں بے نقاب کر دوں ہر چہرہ ہر کردار اور ہر فریب پھر خیال آتا ہے کیا میرے لفظ اتنے طاقتور ہیں یا وہ بھی اس شور میں کہیں گم ہو جائیں گے مگر پھر دل کہتا ہے لکھنا فرض ہے اثر دینا نہیں۔ میں لکھوں گا چاہے سادہ لفظوں میں چاہے ٹوٹے جملوں میں مگر سچ کے قریب رہ کر کیونکہ کل جب میں اپنے........

© Daily Urdu