Mazhab Bhi, Siasat Bhi Aur Karobar Bhi
مذہب بھی، سیاست بھی اور کاروبار بھی
دنیا بڑی عجیب جگہ ہے یہاں عقیدے بھی ہیں، عقیدتیں بھی، مقدس مقامات بھی اور ان مقدس مقامات کے گرد گھومتے ہوئے معاشی مفادات بھی۔ کہیں مذہب انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھاتا ہے اور کہیں اسی مذہب کے نام پر انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا جاتا ہے۔ کہیں شریعت کے نفاذ پر تالیاں بجتی ہیں اور کہیں اسی شریعت کے نام پر ہونے والی زیادتیوں پر زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم مذہب کے پیروکار ہیں یا مذہب کے نام پر قائم کیے گئے اپنے اپنے مفادات کے محافظ؟
سعودی عرب کی مثال لیجیے حرمین شریفین کی موجودگی نے اس ملک کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک خصوصی مقام عطا کیا ہے۔ ہر سال لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمان حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچتے ہیں اس عقیدت کے ساتھ ایک وسیع معاشی سرگرمی بھی وابستہ ہے۔ سیاحت، رہائش، نقل و حمل اور دیگر خدمات سے ایک بڑی معیشت تشکیل پاتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مقدس مقامات کی میزبانی سعودی عرب کو ایک غیر معمولی مذہبی اور سفارتی اہمیت دیتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی مذہبی اہمیت اسے تنقید سے بالاتر بھی کر دیتی ہے؟ اگر مذہب کے نام پر کیے جانے والے اقدامات قابلِ تحسین ہیں تو ان کا معیار بھی یکساں ہونا چاہیے اگر کسی اقدام کو اسلامی عدل، شریعت اور اخلاقیات کے پیمانے پر درست قرار دیا جاتا ہے تو پھر یہی پیمانہ ہر جگہ ہر شخص اور ہر ریاست کے لیے استعمال ہونا چاہیے قانون کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں کہ طاقتور کی کارروائی کو مقدس سمجھ لیا جائے اور کمزور کے لیے انصاف کا دروازہ بند کر دیا جائے۔
مسلمان دنیا کی گزشتہ چند دہائیوں کی تاریخ بھی کچھ کم سوالات نہیں اٹھاتی افغانستان کی جنگ، سوویت یونین کے خلاف جہاد، امریکی مداخلت مختلف مسلح گروہوں کی سرپرستی اور بعد ازاں دہشت گردی کے پھیلاؤ نے پورے خطے کو لہولہان کیا اس تاریخ میں امریکہ، سعودی عرب، پاکستان اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کے کردار مختلف ادوار میں زیرِ بحث رہے ہیں ان........
