Ishq e Rasool Ke Naare, Kirdar Kahan Hai?
عشقِ رسول ﷺ کے نعرے، کردار کہاں ہے؟
آج کا مسلمان بھی بڑا عجیب ہے۔ زبان پر نعرہ ہے کہ حرمتِ رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے مگر جب سیرتِ رسول ﷺ پر چلنے کی باری آتی ہے تو قدم رک جاتے ہیں ہم کہتے ہیں ہم اہلِ بیتؑ کے غلام ہیں، صحابۂ کرامؓ کے عقیدت مند ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے عاشق ہیں مگر کبھی اپنے کردار کا آئینہ سامنے رکھ کر دیکھیں تو شاید وہی اہلِ بیتؑ اور صحابۂ کرامؓ ہمارے اعمال دیکھ کر ہم سے منہ موڑ لیں یہ کیسا عشق ہے جس میں جذبات تو بہت ہیں مگر کردار نہیں؟
ہم نے عشقِ رسول ﷺ کو شاید ایک نعرہ ایک جھنڈا ایک جلسہ اور ایک جذباتی تقریر سمجھ لیا ہے ہم گھنٹوں عشق کے قصے سنا سکتے ہیں مگر چند لمحوں کے لیے اپنے نفس کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہم دوسروں کو عشقِ رسول ﷺ کا درس دیتے ہیں مگر اپنے گھر میں بیوی، بچوں، والدین، پڑوسی، ملازم اور کمزور انسان کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہے۔ اس کا حساب لینے کو تیار نہیں
حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا سب سے بڑا حسن ہی کردار تھا آپ ﷺ نے انسان کو صرف عبادات نہیں سکھائیں۔ انسانیت بھی سکھائی صرف مسجد کا راستہ نہیں بتایا۔ مظلوم کے گھر کا راستہ بھی بتایا صرف نماز نہیں سکھائی، حقوق العباد بھی سکھائے۔ صرف اللہ کی بندگی نہیں سکھائی انسان کی عزت بھی سکھائی۔
پھر سوال یہ ہے کہ ہمارے عشق کا اثر ہماری زبان ہمارے معاملات ہماری تجارت، ہماری سیاست، ہماری عدالت ہماری صحافت اور ہمارے گھروں میں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ ہمارا عشق اور دعوی صرف جذبات تک نعروں تک ہے کردار و عمل سے غائب ہے یہی آج کے مسلمانوں کی بڑی منافقت ہے۔
جو شخص رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کسی انسان کی تذلیل کو معمول کیسے بنا سکتا ہے؟ وہ کسی کا حق کیسے مار سکتا ہے؟ وہ جھوٹ کیسے بول سکتا ہے؟ وہ دھوکا کیسے دے سکتا ہے؟ وہ کمزور کو کیوں کچل سکتا ہے؟ وہ ملاوٹ کیسے کرسکتا ہے؟ وہ کسی مسلمان کے خون کو اتنا سستا کیسے سمجھ سکتا ہے؟ اور اگر ہم اہلِ بیتؑ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی........
