Chori Se Nahi, Bhook Se Dar Lagta Hai Sahib
چوری سے نہیں، بھوک سے ڈر لگتا ہے صاحب
کبھی کبھی ایک جملہ پورے معاشرے کا پوسٹ مارٹم کر دیتا ہے۔ نہ لمبی تقریر کی ضرورت رہتی ہے نہ اعداد و شمار کی نہ کسی معاشی ماہر کی تشریح کی بس ایک مجبور انسان کا ایک جملہ کافی ہوتا ہے موت سے ڈر نہیں لگتا صاحب، بھوک سے ڈرتا ہوں۔ رپورٹر کے سامنے پولیس کی حراست میں کھڑے ایک مبینہ ڈکیت کا یہ جملہ شاید قانون کی عدالت میں اس کے جرم کا دفاع نہ بن سکے مگر معاشرتی عدالت میں یہ جملہ ہم سب کے سامنے ایک بہت بڑا سوال ضرور کھڑا کرتا ہے۔ اس شخص سے جب پوچھا گیا کہ تم ڈکیتی کیوں کرتے ہو تو اس کا مؤقف تھا کہ وہ غریبوں کو نہیں امیروں کو لوٹتا ہے اس دعوے کی قانونی حیثیت اپنی جگہ اور جرم بہرحال جرم ہے لیکن اس جملے کے پیچھے چھپی ہوئی بھوک بے روزگاری محرومی اور نظام سے مایوسی کو نظرانداز کر دینا بھی شاید مسئلے کا حل نہیں یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
ایک طرف وہ پاکستان ہے جہاں کروڑوں لوگ اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، دوسری طرف وہ پاکستان ہے جہاں دولت کے ساتھ دولت جمع ہوتی چلی جاتی ہے ایک طرف مزدور ہے جو پورا دن پسینہ بہاتا ہے دوسری طرف وہ شخص ہے جس کے لیے ایک دن کا خرچ کسی غریب خاندان کے کئی مہینوں کے بجٹ کے برابر ہو سکتا ہے اور درمیان میں ریاست کھڑی ہے۔
ریاست کا کام صرف یہ نہیں کہ جب کوئی بھوکا آدمی قانون توڑ دے تو اسے ہتھکڑی لگا دی جائے ریاست کا اصل امتحان تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک باپ اپنے بچوں کی طرف دیکھ کر سوچتا ہے آج گھر میں چولہا کیسے جلے گا؟ وہ باپ اگر مزدوری مانگتا ہے تو جواب ملتا ہے، کام نہیں کام ملتا ہے تو اجرت کم ہے۔
اجرت طے ہوتی ہے تو کبھی کئی کئی ماہ کی ادائیگی رک جاتی ہے اور جب وہ اپنے حق کی بات کرتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے........
