Wonder Boy Se Yakam July Tak: Sohail Warraich Ki Flop Filmein
ونڈر بوائے سے یکم جولائی تک: سہیل وڑائچ کی فلاپ فلمیں
کالم نگاری نہایت ذمہ داری والا پیشہ ہے۔ بعض لوگ موسم کی پیش گوئی کرتے ہیں، بعض معیشت کا تجزیہ کرتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو ہر دوسرے تیسرے مہینے حکومت کے رخصتی گیت گا کر قوم کو ذہنی ورزش کرواتے رہتے ہیں۔ ہمارے محترم سہیل وڑائچ صاحب بھی بلاشبہ اسی قبیلے کے ایک ممتاز فرد ہیں۔
ان دنوں ان کا ایک کالم زیرِ بحث ہے جس میں یکم جولائی کے بعد حکومت کے لیے خطرات کی گھنٹیاں بجائی گئی ہیں۔ اب یہ گھنٹیاں کہاں نصب ہیں، کون بجاتا ہے اور ان کی بیٹری کہاں سے آتی ہے، اس بارے میں کالم خاموش ہے۔ کالم نگار بھی لاعلم ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہر چند ماہ بعد قوم کو ایک نیا الارم سننے کو مل جاتا ہے اور وہ ٹولہ جو اس خواہش کی امید لگائے بیٹھا ہے ان کو ایسا چورن ہنسی خوشی بیچ دیا جاتا ہے۔
خیر، سہیل وڑائچ صاحب کی پیش گوئیوں کا بھی اپنا ہی لیول ہے۔ قوم اب سیاسی تجزیوں کو سنجیدگی سے کم اور موسم کی پیش گوئی کی طرح زیادہ لیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ محکمۂ موسمیات کبھی کبھار درست نکل آتا ہے! یکم جولائی آئے گا، گزر جائے گا، حکومت بھی شاید وہیں ہوگی، اپوزیشن بھی وہیں ہوگی اور سہیل صاحب اگلے کالم میں شاید اگست، ستمبر یا دسمبر کا کوئی نیا "خطرہ" دریافت کر چکے ہوں گے۔ بہرحال پاکستانی سیاست اور سہیل صاحب کی پیش گوئیوں میں ایک قدر مشترک ہے: دونوں اپنی غیرحقیقی تجزیاتی شعبدہ گری پر بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ ، صرف نئی قسط کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں! وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فرمایا کہ سہیل وڑائچ صاحب کو اب........
