Naye Subay Aur Awami Ikhtiyarat
نئے صوبے اور عوامی اختیارات
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کوئی نئی بحث نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں نئے صوبوں کی آواز مختلف سیاسی، انتظامی اور عوامی حلقوں سے اٹھتی رہی ہے۔ کبھی جنوبی پنجاب کے نام پر، کبھی ہزارہ صوبے کے مطالبے کی صورت میں، کبھی سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کے حوالے سے اور کبھی دیگر پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کو بنیاد بنا کر یہ سوال سامنے آتا رہا ہے کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ واقعی پاکستان کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع، بہتر انتظامی سہولیات اور بروقت انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بننے سے عوام کے مسائل واقعی حل ہو جائیں گے؟ کیا نئے صوبے کا مطلب عام آدمی کے لیے بہتر روزگار، تعلیم، صحت، انصاف اور انتظامی سہولیات ہوگا؟ یا پھر نئے صوبوں کے نام پر نئے دارالحکومت، نئی اسمبلیاں، نئے سیکرٹریٹ، نئے گورنر ہاؤسز اور نئی افسر شاہی وجود میں آئے گی، جبکہ عام شہری پہلے کی طرح اقتدار کے مراکز سے دور ہی رہے گا؟
میرے نزدیک پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو جذبات کے بجائے انتظامی ضرورت، معاشی استطاعت اور عوامی اختیار کے پیمانے پر پرکھنا چاہیے۔
پاکستان کے موجودہ صوبے رقبے، آبادی اور انتظامی پیچیدگی کے اعتبار سے یکساں نہیں۔ بعض صوبوں کے اندر ایسے وسیع علاقے موجود ہیں جہاں ایک عام شہری کو صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایک سرکاری کام، ایک انتظامی مسئلے یا کسی اعلیٰ سطحی داد رسی کے لیے دور دراز علاقوں کے شہریوں کو طویل سفر اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
اگر ایک نیا صوبہ واقعی انتظامی بنیادوں پر قائم کیا جائے اور اس کا دارالحکومت متعلقہ علاقے کے عوام کے لیے جغرافیائی طور پر قابلِ رسائی ہو تو اس سے انتظامی سہولت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ سرکاری محکمے قریب ہوں گے، فیصلہ سازی کا عمل نسبتاً تیز ہو سکتا ہے اور عوام کی ریاستی اداروں تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ صرف سیاسی نعرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض صورتوں میں یہ ایک حقیقی انتظامی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔
نئے صوبے کے قیام کی دوسری بڑی دلیل وسائل کی تقسیم ہے۔ پسماندہ علاقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے وسائل، ٹیکس اور قدرتی........
