Leader Se Le Kar Winter Lu Tak
لیڈر سے لے کر ونٹر لو تک
بہت برس پہلے میں نے ایک کالم لکھا تھا: "خبردار! یہاں سیاست صحت کے لیے مضرِ صحت ہے"۔ حالات جس نہج کی طرف سفر کر رہے ہیں، سیاست واقعی ایک شجرِ ممنوعہ بن چکی ہے۔ بالخصوص شرفاء اور ان تمام امن پسند لوگوں کے لیے جو گالی گلوچ، تشدد اور ہر طرح کی غلاظت سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ ہمیں نہ تو اختلافِ رائے رکھنے کا سلیقہ سکھایا گیا اور نہ ہی مکالمہ ہمارے مزاج میں داخل ہے۔ لیکن داخل بھی کیسے ہو؟ ہمارے ملک میں سیاست کو دخول کا اجازت نامہ ملا ہی کب ہے؟
سیاست جو اس ملک میں کسی طوائف کے گھر کو جاتی بدنام گلی کی طرح ایک سیاہ داغ ہے اور سیاست جو اس ملک میں سب سے آسان ہدف ہے۔
دور کیوں جائیں، حال ہی میں ختم ہونے والے ڈرامے "لیڈر" کو دیکھ لیجیے، یا اس سے پہلے کا ڈرامہ "اک اور محبت" ملاحظہ فرمائیے۔ سب سے آسان ہدف کون ہے؟ سب سے زیادہ غلیظ کون ہے؟ سب سے آسان گالی دینا کس کو ہے؟ جواب ہے سیاستدان۔
کیا اس ملک کے ہر مسئلے کی جڑ صرف سیاستدان ہے؟ کیا اس ملک میں سب سے زیادہ کرپٹ اور برا بھی صرف سیاستدان ہے؟ اگر ایسا ہے تو کہانی کبھی یوں کیوں نہیں بنتی؟ سوال اس طرح کیوں نہیں اٹھایا جاتا کہ "ایک تھا جج جو بہت کرپٹ تھا"، "ایک تھا صحافی جو اپنے شعبے کی کالی بھیڑ تھا"، یا "ایک تھا بیوروکریٹ جس نے لوٹ مار کی انتہا کر دی تھی"؟
کہانی ہمیشہ کچھ یوں بنائی جاتی ہے کہ دو پرانے پاپیوں نے سیاست کی آلودہ دنیا میں گند مچا رکھا ہے۔ یونیورسٹی کی رنگین و رومانوی فضا، سیاسی جماعتوں کی طلباء پر اثر انگیز گرفت، خوابوں کی........
