menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khumbiyan Jama Chichoray Aur Media Influencers

10 0
13.09.2026

کھمبیاں جمع چھچھورے اور میڈیا انفلوئنسرز

کچھ عرصے سے کچھ زمانوں سے ایک نئی صنف خود رو کھمبیوں کی طرح اگ آئی ہے اور ہم اس کے نرغے میں ہیں، جانے ہمارے ہی دماغ کا خلل ہے یا کچھ ہیں دیوانے جو ہماری طرح سوچتے ہیں کہ ہماری نئی جنریشن زی اور ایلفا کا ہی نہیں بلکہ ہماری جنریشن ایکس کا بھی سوا ستیاناس اس نئی صنف نے کر دیا ہے اور ہم ویہلی قوم جس کے پاس ضائع کرنے کو سب سے ارزاں چیز وقت ہے وہ گھنٹوں ان ہی مشاغل میں برباد کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ مستفید ہو گئے بلکہ اس خوفناک نئی صنف جو کہ نا صرف نئے رجحانات، ذہن سازی اور ذہن ترتیب و تخریب جیسے "جرائم" میں ملوث ہے، سے تعلیم پاکر ہمارے مرد وزن بچے بوڑھے، ان لوگوں کو پروموٹ کرتے پائے جاتے ہیں بلکہ آگے مزید لوگوں کو "مستفید" بھی کرتے جاتے ہیں۔

جی ہاں آپ درست سمجھے ہم بات کر رہے ہیں آج کل کے میڈیا انفلوئنسرز کی۔ یہ میڈیا انفلوئنسرز کسی مہلک انفلوئنزا کی طرح گرمی، سردی، برسات، خزاں ہر موسم میں لگاتار کام کر رہے ہیں اور کبھی رکتے نہیں۔

سب سے دلچسپ اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ میڈیا انفلوئنسرز بننے کے لیے خاص طور پہ ہمارے انڈو پاک میں آپ کو کسی خاص ہنر کی ضرورت نہیں۔

جی ہاں درست عرض کر رہی ہوں، آپ کو بس کچھ چکنی چپڑی باتیں کرنی آنی چاہیں، یا پھر کچھ مضحکہ خیز حرکتیں کیجیے اور کچھ نہیں تو گہرا میک آپ تھوپیے، قابل اعتراض لباس پہنیے، کسی ہوش ربا یا پرانے گانے پہ ایکٹنگ کیجیے، دو چار ٹھمکے لگائیے، ٹوپی تسبیح پکڑ لیجیے، فیمنزم کے نام پہ مرد حضرات کی ایسی تیسی پھیر دیجیے یا پھر فیمنزم کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیجیے اتنا کہ عورت سے جینے کا، سوچنے کا، بنیادی حق غضب کر لیجیے، غرض کوئی بھی وہ مشہور و مقبول مسالہ جس کا دانش، عقل انسانیت ماحول دوستی سے کوئی علاقہ نہ ہو، جو اپنے ہاں خوب بکتا ہے چلتا ہے۔ اب بس آپ کو ایک عدد اچھے برانڈ کا موبائل درکار ہے اور چلئے شروع ہو جائیے ٹک ٹاک اور یوٹیوب پہ۔ اب کچھ عرصے کی بات ہے آپ کا سر کڑاہی میں ہے اور........

© Daily Urdu