menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dam Hai Ye Hammam Nahi

21 0
01.10.2026

مجھے یاد ہے، بہت اچھی طرح یاد ہے کہ میری ماں جو اکلوتی اولاد تھیں، ان کو وراثت میں میری نانی کا جو گھر حصے میں آیا، اس گھر کی بس کچھ مرمتیں کروائی گئی تھیں، مگر بنیادی ڈھانچہ تقسیم سے قبل کا تھا۔ حتیٰ کہ اس میں ایک لکڑی کا صوفہ بھی تھا سنا ہے کہ وہ مہاجر چھوڑ گئے تھے۔ خیر، یہ گھر پانی کے استعمال اور اسٹوریج کے لیے بڑی دلچسپ صورتحال اختیار کرتا تھا۔ یہ عجیب تو نہیں کہ ایسی صورت آپ میں سے بہت لوگوں کو پیش آئی ہوگی۔ چھوٹے سے چِپس کے فرش والے صحن میں ایک کھُرّا تھا۔ اس میں ایک کونے پر ایک قدِ آدم حمام کھڑا تھا۔ کھُرّے کے درمیان میں کچھ ٹونٹیاں تھیں جن میں ایک سرکاری پانی کی ٹونٹی تھی، ایک کھُرّے کے بالکل اوپر بنی سیمنٹ کی ٹینکی تھی اور دوسری انتہائی سمت پر ایک ہینڈ پمپ تھا۔

اب جب سرکاری پانی آتا تو پینے اور منہ ہاتھ دھونے کے لیے حمام میں بھر لیا جاتا اور ایک بڑا پائپ چند سیڑھیاں چڑھ کر ٹینکی میں ڈال دیا جاتا۔ اس ٹینکی کے اوپر ایک لکڑی کا ڈھکن تھا جسے اٹھا کر پائپ پھینکا جاتا اور میرے لیے وہ لمحہ بڑا وحشت بھرا ہوتا۔ ڈھکن اٹھاتے ہی کائی کی بو اور دو تین موٹی چھپکلیاں گھورتی ملتیں۔ خاندان کی ضرورت اور پانی کے پریشر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اوپر کی منزل پر باتھ روم کے اوپر ایک بڑی سیل بند سیمنٹ کی ٹینکی تعمیر کی گئی۔ اس حمام میں ہی ایک تالاب جتنا پانی ہوتا تھا کہ ایک بار اس میں زنگ لگنے سے سوراخ ہوگیا اور صبح سارا گھر پانی سے بھر گیا تھا۔

جی جناب! پانی کو خاندان کی اکائی سے لے کر شہروں، ضلعوں اور پھر صوبوں اور ملک کی ضرورت کے حساب سے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اگر یہ نہ کریں تو ذرا سوچئے، کروڑوں کی آبادی کھائے پیے گی کیسے؟ پانی تو حیات کی علامت........

© Daily Urdu