Kamyabi Aur Nakami Mein Chand Qadamon Ka Fasla
کامیابی اور ناکامی میں چند قدموں کا فاصلہ
اتنے سال بعد یاد داشت سے لکھتے ہوئے کمی بیشی کی گنجائش ہے اور چند ایک جگہوں پر ضرورتاََ نام تبدیل کر دئیے گئے ہیں۔ یہ نوجوان ڈاکٹروں کیلئے لکھی گئی تھی۔
سال اول کی جس وقت انٹرنل میڈیسن، پیڈیاٹرکس، ایمرجنسی روم اور نیورالوجی کی روٹیشنز (محوری گردشیں) ختم ہوئیں اور ریزیڈنسی پروگرام سے جینا تھامپسن کا پیغام آیا کہ مجھے اپنی چھ ماہ کی جانچ پڑتال (evaluation) کیلئے اپنے پروگرام ڈائرکٹر ڈاکٹر گرائنر کے ساتھ ملنا ہے۔ تب تک ہم لوگ یونیورسٹی آف نبراسکا کی پُرانی بلڈنگ سے پانچ یا چھ منزلہ شاندار اور کُشادہ رچرڈ ینگ سینٹر میں جا چُکے تھے۔ غالباََ اُس وقت میں فوجیوں کیلئے مختص اسپتال میں کام کر رہا تھا جو رچرڈ ینگ سینٹر سے چند ہی منٹ کے فاصلے پر تھا۔ میں مناسب وقت پر ہی نکلا اور رچرڈ ینگ سینٹر پہنچ کر کار پارک کی۔ مجھ سے یہ کوتاہی ضرور ہوئی کہ میں نے اسپتال سے نکلتے ہوئے یہ اندازہ نہیں لگایا کہ ڈاکٹر گرائنر کا نیا دفتر کدھر ہے۔ کچھ وقت دفتر ڈھونڈنے میں لگا اور غالباََ ڈیڑھ منٹ دیر سے پہنچا۔ ڈاکٹر گرائنر سے معذرت کی۔ ڈاکٹر گرائنر کچھ نہیں بولے لیکن خاموشی، چہرہ مہُرہ یا ماتھے کی گہری ہوتی شکنیں اُن کی ناخوشی کا پتہ دیتی رہیں
خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
پابندئی وقت کا ایسا سبق سیکھا کہ ساری زندگی کیلئے وقت کی پابندی زندگی کا مکمل حصہ بن گئی۔
یہ مکمل کہانی نہیں ہے کیونکہ وقت کی پابندی کرنا ایک بالکل مختلف چیز ہے لیکن وقت کو درست طور پر استعمال کرنا کچھ اور ہی خاصے کی چیز ہے۔
ریزیڈنسی کے سیکنڈ ائیر میں مجھے ڈاکٹر میتھیو ایگبرٹ کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا۔ یہ یونیورسٹی کی سب سے مصروف سروس تھی۔ روزانہ کئی مریض داخل ہوتے اور کئی ڈسچارج کر دئیے جاتے۔ ڈاکٹر ایگبرٹ........
