menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jo Guzari Na Ja Saki Hum Se

59 0
22.09.2026

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

پردیس میں گزرے تیس طویل سال، سات میڈیکل یونیورسٹیاں، بہت سے اسپتال اور اُن سے وابستہ بھولی بسری داستانیں، سینکڑوں ہم عصر، چند ڈگریاں، امبر کا ہاتھ تھام کر گزرے ہوئے ماہ و سال، سانجھی اولاد، بہت سی فروزاں یادیں اور منسی کے گورستان میں ایک تنہا قبر

اختتام کو بڑھتے ہوئے بس کل یہی سرمایہ رہا

چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط

بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

پردیس جہاں بہت کچھ لے لیتا ہے وہاں آخر کار عروسی بندھن میں بندھے صرف دو انسان باقی رہ جاتے ہیں۔ گزرتی زندگی کے ساتھ چلتے، بہتی ہوئی پُرانی یادوں سے نم اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے زندگی کے سلیٹی چادر کی ہر گرہ کھولتے اور بند کرتے رہتے ہیں کیونکہ یہ قصہ دونوں ہی اکٹھے لکھتے ہیں۔ کسی بھی پردیسی کی وہ داستان جو نکاح نامے کے دستخطوں سے شروع ہوتی ہے، وہ ایک ائیرپورٹ سے دوسرے ائیرپورٹ کی کہانی، ایک شہر سے دوسرے شہر اور وہاں سے ایک ممکنہ اختتام کی داستان کہتی ہے

پردیس کی کٹھالی، جواں عمری کے سونے کے طلائی دن، چاندی کے روپہلے ماہ و سال اور جواہرات کی ڈلیوں سی دہائیاں لے کر کھوٹے پیتل کی قیمت کی اشرفیاں ہاتھ میں تھما ڈالتی ہے۔ ہر ہجرت ایک قیمت کے ساتھ آتی ہے۔ مشرقی ملکوں میں جوان اور کڑیل جسم جسمانی مزدوری کی بھٹی میں جھونکے جاتے ہیں۔ نوجوان بیاہتائیں، اُجاڑ دنوں اور سونی راتوں کی داستان لکھتی ہیں۔ چند ریال یا درہم کاسے میں تو آتے ہیں لیکن کبھی اُن رت جگوں کا عذاب نہیں کہتے جو دونوں ایک دوسرے سے دور سُونی سیجوں پر کروٹیں بدلتے گزارتے ہیں۔ سیاہ بال سرمئی ہوجاتے ہیں، جوان محبتیں عمر رسیدگی کی ردا اوڑھ لیتی ہیں اور روشن آنکھیں بجھ جاتی ہیں۔ ذمہ داریوں کی قیمت لگتی ہے اور یہی ہمارے سے ملکوں کا المیہ ہے

یورپ اور شمالی امریکہ بھی ہُنر اور ذہن کی ہی قیمت لگاتے ہیں لیکن نفیس ترین علمی ہنر کے قدردان ہیں۔ غیرتراشیدہ جواہر چھانٹ لیتے ہیں اور وہ نوجوان جن کو اُن کا ملک موقع نہیں دیتا یا اس قابل نہیں سمجھتا، یہ ملک اُن کو سمیٹ لیتے ہیں۔ تراشتے اور سنوارتے ہیں اور........

© Daily Urdu