menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Aap Ka Career Aane Walay Maliyati Tufan Ke Liye Tayyar Hai?

29 0
18.07.2026

کیا آپ کا کیریئر آنے والے مالیاتی طوفان کے لیے تیار ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ چند سالوں بعد روایتی بینکنگ کا سارا نظام بدلنے والا ہے؟ پاکستان سمیت دنیا بھر میں معیشت "سود" سے نکل کر "شرعی اصولوں" کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ اگر آپ بی کام، ایم کام، یا اکنامکس کے طالب علم ہیں، تو سوال یہ نہیں کہ "کیا ہمیں اسلامک بینکنگ میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟" بلکہ سوال یہ ہے کہ "اگر آپ نے آج خود کو اس نظام کے لیے تیار نہ کیا، تو کل کی مارکیٹ میں آپ کی جگہ کہاں ہوگی؟"

آئیے، اس بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اسلامک بینکنگ اور تکافل کے بنیادی تصورات اور ان کی حقیقت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

اسلامی بینکاری کا تصور محض ایک مالیاتی متبادل نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کی قدیم ترین اقدار اور جدید معاشی تقاضوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ 1963ء میں مصر کے شہر "میت غمر" سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک 3 ٹریلین ڈالر کی عالمی صنعت بن چکا ہے۔ یہ نظام محض مسلم ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے 75 سے زائد ممالک میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ سعودی عرب، ملائیشیا، متحدہ........

© Daily Urdu