Aik Safar Ki Rudad
عموماً، سال کے آخر میں اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور سٹاف ممبران کی جانب سے جماعت دہم کے طلبہ کے لیے الوداعی پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام بعض اسکولوں میں چائے پارٹی یا بریانی کھلانے تک محدود ہوتا ہے، لیکن اکثر فرض شناس ہیڈ ماسٹرز اور مخلص سٹاف ممبران اپنی کڑی نگرانی میں طلبہ کو ملک کی تاریخی عمارات، خوب صورت پارکوں، مشہور دریاؤں اور دیگر قابل دید مقامات کی سیر و سیاحت پر لے جاتے ہیں، تاکہ یہ سیر و سیاحت طلبہ کے لیے نہ صرف الوداعی پروگرام بنے، بلکہ یہ ایک معلوماتی اور ناقابل فراموش یادگار بھی بن جائے۔
دو دن قبل، ہمارے اسکول ہیڈ اور اساتذۂ کرام نے حالیہ صوبائی بدامنی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیارت ریزیڈنسی اور دیگر تاریخی مقامات کے بجائے پٹھان کوٹ لورالائی جانے کا فیصلہ بہتر پایا اور جماعت دہم کے طلبہ کو پٹھان کوٹ جانے کی خوش خبری سنائی۔ طلبہ نے خوش خبری سنتے ہی، ان کے دلوں میں حرارت، چہروں پر رونق، ہونٹوں پر مسکراہٹ، آنکھوں میں چمک اور ٹانگوں میں توانائی آگئی۔ سب خوشی سے سرشار ہو کر برہ، میمنا اور ہرنوٹا کی طرح اچھلتے کودتے کلاس روم سے نکل کر دفتر کے سامنے جمع ہوئے۔ پھر ذمہ دار اساتذہ نے انھیں آگے کا لائحۂ عمل سے آگاہ کیا اور ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داری سونپتے ہوئے ہفتے کے دن کو 7: 30 بجے آنے کی تاکید کی۔
اس دن، میں خلافِ معمول دس منٹ دیر سے اسکول پہنچا۔ دیکھتا ہوں کہ اسکول کے سامنے دو چمکتی دمکتی کالی فیلڈر اور ایک سفید ایکس گاڑی B-52 طیاروں کی طرح الرٹ کھڑی ہیں۔ طلبہ اپنی سیٹوں پر قبضہ جمانے کی خاطر گاڑیوں کے ارد گرد اس طرح گھوم رہے ہیں جیسے وہ کرسی دوڑ (MUSCIAL CHAIRS) کھیل رہے ہوں۔ ان کے نئے کپڑوں کی کڑکڑاہٹ، ہشاش بشاش چہرے، لہراتے بال اور جوتوں کی چمک دیکھ کر مجھے اپنی شادی کا دن یاد آگیا۔ یہاں میں نے سوچا کہ والدین سکول کی غیر حاضری کے ڈر سے اپنے بچوں کو کہیں لے کر نہیں جا سکتے اور بے چارے طلبہ سال بھر وردیوں میں ملبوس رہتے ہیں۔ نتیجتاً ان کا دل پڑھائی سے بھر جاتا ہے۔ لیکن ہمارے اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب حساس دل کے مالک ہیں۔ آج موصوف کے کرم سے طلبہ کو نہ صرف سیر و سیاحت کا موقع ملا، بلکہ ان کے نئے کپڑوں، جوتوں اور ٹوپیوں کے پہننے کی باری بھی آئی۔ خدا جانے یہ کب تک تھیلوں اور کاٹن میں قیدی نمبر 804 کی طرح قید پڑے رہتے۔
گوشے میں قفس کے ان کو آرام بہت ہے
اب وہ جنھیں سیٹیں مل گئی ہیں یا جو سیٹوں پر قابض ہوگئے ہیں، وہ دوسروں کا انتظار کرنے کے حق میں نہیں ہیں، بس پرواز کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ میں نے ان کی بے چینی دیکھ کر سوچا اگر میں ایک منٹ اور دیر سے آتا تو وہ مجھے یہاں تنہا چھوڑ کر چلے جاتے۔ جلد ہی میں اپنے ہم منصب اساتذۂ کرام کے ساتھ سفید ایکس گاڑی میں سوار ہوا اور پچھلی بائیں سیٹ پر اپنا قبضہ جمالیا۔
تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ موٹا ہم سفر دوسروں کے سفر کی راحت چھین لیتا ہے۔ کیوں کہ وہ درمیانی سیٹ پر بیٹھ کر غیر شعوری طور پر اپنے بازوؤں کو دونوں جانب پھیلا کر ہاتھوں کو کھڑکی سے باہر نکال دیتا ہے۔ مجھے یہ خدشہ ضرور تھا، لیکن انھوں نے شعوری طور پر احتراماً میرے لیے ضرورت سے زیادہ جگہ نکالی۔ اگر میرے جیسا دوست کبھی کسی کا ہم سفر بن جائے تو یہ خدا کی رحمت سے کم نہیں۔ تب میں نے اطمینان کی لمبی سانس لے کر دعاؤں، قہقہوں اور موسیقی کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا۔
ہم اسکول سے براستہ تور تنگی لورالائی کی طرف نکل پڑے۔ راستے میں رود ملازئی کی حسین وادیوں، سرسبز باغات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ........
