Riwayat: Kacha Ghara, Pathar Aur Mamnoo Khushbu
روایت: کچا گھڑا، پتھر اور ممنوع خوشبو
میں روایت ہوں۔ وہ روایت جس کی تصویر ہر عہد میں راویان نے اپنے اپنے مطلب سے بنائی ہے۔ پھر تشریح و تفسیر میں بھی اپنی مرضی کے رنگ بھرے ہیں۔ سب نے اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق میرے معانی اخذ کیے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق میری سرجری کرتے رہے ہیں۔ دعا کو دغا اور وفا کو جفا راویان نے ہی تسلیم کروایا ہے۔ کہیں تو میں ایک کچا گھڑا رہ گئی جسے ذرا سی ضرب نے توڑ دیا اور کہیں پانی پر تیرتے تیرتے خود ہی ڈوب گئی۔ مگر راوی کو میرا کوئی لحاظ نہیں۔
راویان کا ماننا ہے کہ روایت کوئی ایسی امانت نہیں جسے احتیاط سے سنبھالا جائے۔ وہ تو اسے بچوں کے کھیل کے کسی ایسے کھلونے بلکہ ایک ایسے ایپ کی طرح برتنا سیکھ چکے ہیں۔ جسے جب چاہیں، توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے مطابق پیش کیا جا سکے۔ راویان کہتے ہیں کہ روایت کے لیے ماضی میں جانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ حال کے کسی بھی لمحے میں بیٹھ کر ماضی کے تانے بانے ادھیڑ سکتے ہیں۔ ان میں وہ اپنی مرضی کے دھاگے ڈال سکتے ہیں۔ کچھ گرہیں کھول سکتے ہیں۔ کچھ نئی گرہیں لگا سکتے ہیں اور پھر مجھے ایک ایسا ماضی........
