menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Numberon Ki Daur, Zehni Dabao Aur Fehm Ka Bohran

30 0
15.10.2026

نمبروں کی دوڑ، ذہنی دباؤ اور فہم کا بحران

کیا ہم واقعی ایک تعلیم یافتہ معاشرہ بن رہے ہیں، یا صرف ڈگریاں حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم بچوں کو زندگی جینے کا شعور دے رہی ہے، یا انہیں نمبروں، حاضریوں، امتحانات اور گریڈز کا اس قدر پابند بنا رہی ہے کہ بعض بچے ناکامی کے تصور ہی سے اتنے خوف زدہ ہو جاتے ہیں کہ اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ ایسی خبریں دل دہلا دیتی ہیں۔ کہیں کم حاضری، کہیں امتحان میں کم نمبر اور کہیں فیس یا پیسوں کے ضیاع کا دباؤ۔ راولپنڈی میں ایک طالبہ کی جان لینے کے واقعے نے ہمارے تعلیمی نظام پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ تحریر اس واقعے کی تفصیلات یا اسباب کا تعین کرنے کے بجائے اس بنیادی سوال پر غور کی دعوت ہے کہ آخر ہمارے تعلیمی ماحول میں ناکامی کا خوف اتنا شدید کیوں ہو جاتا ہے کہ بعض بچوں کو زندگی کے دوسرے راستے دکھائی ہی نہیں دیتے؟ یہ سوال میرے ذہن میں اس لیے بھی شدت سے اٹھتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کام کرتے ہوئے ایسے مشاہدات سامنے آتے ہیں جو ہمارے نظامِ تعلیم کے مقاصد اور طریق کار پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ داخلہ فارم پُر کرتے ہوئے ایک طالبہ........

© Daily Urdu