Nikharna Ye Chaman Hai Agar To Aik Raho
نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
حالیہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے خطے کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر طاقتوں کی کشمکش، توانائی کے بحران اور پراکسی جنگوں کے خطرات کے درمیان پاکستان ایک نہایت حساس جغرافیائی اور اسٹریٹیجک مقام پر کھڑا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان بالخصوص پاکستانی افواج نے جس توازن، بردباری اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ ایک ذمہ دار ریاستی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف خود کو براہِ راست اس تنازع سے دور رکھنے کی پالیسی اپنائی بلکہ سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔
عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ رابطوں میں امن کے خواہاں ہیں۔ جو ایک متوازن اور ذمہ دار کردار کا واضح ثبوت ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستانی فوج کا کردار محض دفاعی ادارے سے بڑھ کر ایک اسٹریٹیجک استحکام فراہم کرنے والے ستون کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس وقت فوج بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف ہے۔ ایک طرف بیرونی خطرات ہیں۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور دشمنوں کے سرحدی چیلنجز۔ تو دوسری طرف اندرونی محاذ پر دہشت گردی۔
علیحدگی پسند تحریکیں اور پراکسی جنگوں کے خدشات روپ بدل بدل کر وار کر رہے........
