Naqabon Ka Ehad Aur Nange Sach
نقابوں کا عہد اور ننگے سچ
ننگے بادشاہ کی کہانی ہم سب نے سنی ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جو اپنے لباس کے سحر میں اس قدر گرفتار تھا کہ سچ کی آواز اسے دیوانگی محسوس ہوتی تھی۔ مگر ہمارے عہد کی کہانی کچھ مختلف ہے۔ یہاں مسئلہ بادشاہ کے لباس کا نہیں۔ درباریوں کا ہے۔ رعایا کے چہروں پر چڑھائے گئے نقابوں کا ہے۔ یہاں ننگا بادشاہ نہیں۔ ننگے سچ ہیں۔ جن پر رنگ و روغن کی تہیں چڑھا کر انہیں دیوار کی تزئین بنا دیا گیا ہے۔
اقتدار کی فطرت میں ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ جب وہ گلیوں میں نکلے تو قہقہے سنائی دیں۔ مسکراہٹیں دکھائی دیں اور نظم و ضبط کی تصویریں بنیں۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے کچھ لوگ ماسک تقسیم کرتے ہیں۔ کچھ تالیاں بجوانے کی مشق کرواتے ہیں اور کچھ اپنے اپنے علاقوں کے مسائل کو کپڑے پہنا دیتے ہیں۔ کہیں غربت کو اعداد و شمار کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔ کہیں بے روزگاری کو تربیتی پروگراموں کی چمک میں گم کر دیا جاتا ہے اور کہیں بیماری کو موبائل ایپ کے آئیکون میں قید کرکے سمجھ لیا جاتا ہے کہ علاج ہوگیا۔
یہ ہیر پھیر صرف بیانیے کی تراش خراش نہیں۔ بلکہ اجتماعی شعور کی سمت متعین کرنے کی کوشش ہے۔ جب اصل مسئلہ آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو اس پر سوال بھی کم اٹھتے ہیں۔ یوں زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اُن پر پینٹ کر دیا جاتا ہے تاکہ تصویر خوبصورت لگے۔ مگر پینٹ کبھی پیپ کا متبادل نہیں بنتا اور تصویر کبھی حقیقت کا بدل نہیں ہو سکتی۔
آج ہمارے ہسپتالوں کی راہداریوں میں یہی تضاد گونجتا ہے۔ کہیں مشینیں ناکارہ ہیں۔ کہیں ادویات نایاب، کہیں عملہ کم اور........
