Dard Minnat Kash Dawa Na Ho
درد منت کش دوا نہ ہوا
سوشل میڈیا نے جہاں آسانیوں کے ساتھ بے شمار ابہام پیدا کیے۔ وہاں اس نے طب جیسے سنجیدہ اور حساس شعبے کو ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج ہر شخص چاہے اس کے پاس کوئی طبی علم ہو یا نہ ہو۔ بطور ماہر نہ صرف مشورے دے رہا ہے۔ بلکہ علاج بھی تجویز کر رہا ہے۔ یہ محض ایک عام سماجی رویہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں صحت کے تصور کی بگڑتی ہوئی شکل کی عکاسی کرتا ہے۔
فیس بک، YouTube اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر ایک مخصوص انداز اپنایا جا رہا ہے۔ پہلے بیماریوں کی علامات بیان کی جاتی ہیں پھر لوگوں کے خوف اور کمزوری کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور آخر میں اپنی تیار کردہ دوا یا پروڈکٹ کو حتمی حل کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار درحقیقت وہی پرانا انداز ہے جو کبھی بسوں میں منجن بیچنے والوں یا ریڑھیوں پر آواز لگانے والوں کا ہوتا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ سب کچھ جدید کیمرے اور دلکش انداز میں ہو رہا ہے۔
آج کل یہ دعوی بھی عام ہو چکا ہے کہ ہم نے یہ دوا خود آزمائی ہے۔ یہ سر سے پاؤں تک ہر بیماری ختم کر دیتی ہے۔ یا چند دنوں میں مکمل صحت یابی ممکن ہے۔ یہ دعوے سننے میں جتنے دلکش لگتے ہیں۔ حقیقت میں اتنے ہی غیر سائنسی اور خطرناک ہیں۔ کچھ لوگ چند جڑی بوٹیاں یا مختلف اشیاء ملا کر ایک "جادوئی........
