menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bherion Ke Narghe Mein Bher

20 0
09.07.2026

بھیڑیوں کے نرغے میں بھیڑ

وہ ایک ننھا سا بھیڑ کا بچہ تھا۔ نہ اس کے پاس طاقت تھی۔ نہ پنجے۔ نہ دانت۔ اگر پنجے ہوتے بھی تو شاید وہ صرف اپنی ہی بے بسی کو نوچ سکتا تھا۔ اس کا سب سے بڑا جرم صرف یہ تھا کہ وہ زندہ رہنا چاہتا تھا۔ وہ صبح سے شام تک جنگل کے کنارے بھٹکتا رہتا۔ کبھی کسی سایہ دار درخت کے نیچے رک جاتا۔ کبھی کسی خشک ندی کے کنارے بیٹھ کر دور تک پھیلے راستوں کو دیکھتا۔ اسے یقین تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی ایسا راستہ ضرور ہوگا جہاں سے گزر کر وہ سکون تک پہنچ جائے گا۔ وہ ممیا رہا تھا۔ شاید کسی کو اپنی آواز سنانا چاہتا تھا۔ مگر جنگل میں بھیڑوں کی آواز کون سنتا ہے۔ وہاں تو صرف بھیڑیوں کی دھاڑ کو قانون سمجھا جاتا تھا۔

ایک دن اس نے پہلا راستہ اختیار کیا۔ چند قدم ہی چلا تھا کہ ایک بھیڑیے نے پوچھا۔ کہاں جا رہے ہو؟ بھیڑ کے بچے نے خوف زدہ آواز میں کہا۔ کہ صرف گزرنا چاہتا ہوں۔ بھیڑیے نے راستہ روک لیا۔ یہ راستہ تمہارے لیے نہیں ہے۔ کیونکہ راستے بھی طاقتوروں کے ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے راستے پر گیا۔ وہاں بھی ایک بھیڑیا تھا۔ تیسرے راستے پر تیسرا، چوتھے راستے پر چوتھا۔ ہر راستہ کسی نہ کسی کے نام لکھا تھا۔ ہر موڑ پر ایک پنجہ انتظار کر رہا تھا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے جسم پر ایک نیا زخم بڑھتا جا رہا تھا۔

کافی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ مسئلہ اس کے قدموں میں نہیں تھا۔ مسئلہ شاید........

© Daily Urdu