menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qatal o Gharat Gari, Aman Se Adam Tahafuz Tak, Zimmedar Kon?

25 0
12.10.2026

قتل و غارت گری، امن سے عدم تحفظ تک، ذمہ دار کون؟

کافی دنوں سے قلم خاموش رہا۔ زندگی بھی عجیب توازن کا نام ہے، کبھی خوشیوں کے دامن میں مسرتیں سمیٹنے کا موقع ملتا ہے تو کبھی غم کی ایسی ساعتیں آتی ہیں کہ انسان اپنے احساسات تک کو لفظوں میں ڈھالنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اسی دوران مقامی، ملکی اور عالمی سطح پر کئی اہم واقعات رونما ہوئے جو نظروں سے گزرتے رہے لیکن وقت کی قلت اور مصروفیت کے باعث ان پر قلم اٹھانا ممکن نہ ہو سکا۔

آج دوبارہ لکھنے کا آغاز اپنے شہر ہری پور سے کرنا چاہتا ہوں۔ ایک ایسا شہر جس کی شناخت امن، رواداری، مہمان نوازی اور بھائی چارے سے رہی ہے۔ ہزارہ کی اس سرزمین نے ہمیشہ اپنی پُرامن فضا، سماجی اقدار اور باہمی احترام کے باعث ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ مگر گزشتہ چند ماہ کے دوران پیش آنے والے بعض سنگین واقعات نے اہلِ ہری پور کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟

آیت نور کا دل دہلا دینے والا واقعہ، سرائے گدائے میں کم سن عثمان کی پُراسرار موت، کھلابٹ میں بیٹے کے ہاتھوں ماں کا قتل، کوٹ نجیب اللہ میں گھر کے اندر خاتون کا بہیمانہ قتل اور سرائے صالح کے علاقے میں ڈرم سے لاش کی برآمدگی۔ یہ واقعات محض اخباری سرخیاں نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ضمیر پر دستک ہیں۔ ان واقعات کی تفصیلات اور قانونی حیثیت اپنی جگہ لیکن ان کا مجموعی اثر شہریوں کے احساسِ تحفظ پر ضرور پڑتا ہے۔

آیت نور کا واقعہ ہری پور کے لیے ایک ایسا سانحہ ہے جس نے ہر حساس دل کو افسردہ کیا۔ ایک کم سن بچی کی گمشدگی طویل تلاش اور پھر اس کی لاش کی برآمدگی نے نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ پورے علاقے کو غم و غصے سے دوچار کیا۔ بعد ازاں سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس سانحے کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا۔ اس معاملے میں پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھے اور ستمبر 2026 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے نئے سرے سے تحقیقات کا حکم بھی دیا۔ یہ صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ معاملے کی ہر کڑی کو شواہد کی بنیاد پر جانچا جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت، کوتاہی یا غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل ثابت ہو تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ ایک معصوم بچی کے معاملے میں ابتدائی گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی، شواہد کا تحفظ، مشتبہ مقامات کی جانچ اور اہلِ خانہ کے ساتھ حساس رویہ بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ اگر کہیں تاخیر یا کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں کیونکہ انصاف صرف ملزم تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ تفتیش کے ہر مرحلے کو قانون کے مطابق مکمل کرنے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔

سرائے........

© Daily Urdu