Mehnat Kash o Mazdoor: 1886 Se 2026 Tak
محنت کش و مزدور: 1886 سے 2026 تک
دنیا بھر میں یکم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے مگر یہ دن محض ایک رسم نہیں بلکہ محنت کشوں کی ایک تاریخ، ایک قربانی اور ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ اگر ہم 1886 سے 2026 تک کا سفر دیکھیں تو ہر چیز بدل چکی ہے مگر حقیقت میں محنت کش آج بھی کئی محاذوں پر اُسی جدوجہد میں مصروف ہیں جو اُنہوں نے 1886 میں شروع کی تھی۔
محنت کشوں کی اپنے حقوق بارے آواز بلند کرنا اور مطالبات منوانا ہمیں 1886 کے امریکہ میں شکاگو کی سڑکوں پر لے جاتی ہے۔ شکاگو اس وقت صنعتی انقلاب میں اپنے عروج پہ تھا۔ مگر اس ترقی کے سفر میں محنت کشوان اور مزدوروں کا استحصال بھی بہت زیادہ ہو رہا تھا۔ صنعتوں میں 12 سے 16 گھنٹے کام لینا معمول بن چکا تھا۔ مزدور کی اجرت کم اور حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے اور کوئی پُرسانِ حال نہ تھا۔ آخر اُس نظام سے تنگ آ کر مزدوروں نے 8 گھنٹے اوقاتِ کار کے لیے منظم انداز میں آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ اس تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں البرٹ پارسنز (Albert Parsons) اور آگسٹ سپائیز (August Spies) شامل تھے جنہوں نے مزدوروں کو منظم کیا اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا۔
یکم مئی 1886 کو شروع ہونے والی ہڑتال نے 3 اور 4 مئی کو ایک خونی موڑ اختیار کیا جب "مارکیٹ اسکوائر"........
