Chain He Chain Hai?
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اصل سچ تو یہ ہے کہ جو انسان، جتنی بے پرکی افواہ سازی کر سکتا ہے، اتنا ہی مقبول معلوم پڑتا ہے۔ سب کچھ اب اتنے دھڑلے سے کیا جاتا ہے، کہ سننے اور دیکھنے والا، صرف لہجہ کے اعتماد پر ہی ذہنی خاکہ بنا لیتا ہے۔
یوٹیوب پر جو موصوف، بغیر شواہد کے ہوا میں تیر چلا رہے ہوتے ہیں، نوبت ہی نہیں آنے دیتے کہ جو فرما رہے ہیں، اس کی صداقت کی بابت معروضات پیش کی جا سکیں۔ اول تو دل ہی نہیں چاہتا کہ سوال پوچھا جائے۔ اگر یہ جسارت کر لیں، تو برگزیدہ یوٹیوبر، فوراً سوال کو کسی سیاسی مخالفت کے سانچے میں فٹ کرکے، تبروں پر آ جائے گا۔ یہ عام سی بات ہے جو ہر سوچنے والے انسان کے ذہن میں موجود ہے۔
ہاں! ایک اور بات، یوٹیوب پر، اپنی گفتگو کا اشتہار اتنا سنسنی خیز بنایا جاتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انسان دیکھنے کی زحمت کر لیتا ہے۔ پھر معلوم پڑتا ہے کہ گفتگو میں کوئی ربط نہیں ہے۔ ویسے سنجیدہ لوگ بھی ہیں جو ٹھوس دلائل کے ساتھ، حقیقت پر مبنی تحقیقی گفتگو کرتے ہیں مگر یہ پڑھے لکھے لوگ، اتنی پذیرائی حاصل نہیں کر سکتے جو بے پرکی اڑانے والے حاصل کرتے رہتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ، کہ ہر واقعہ یا قصہ، خبر نہیں ہوتا، اس پر بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ مگر یہاں تو عالم یہ ہے کہ شاہی قلعے کی دیواروں میں چنی ہوئی اینٹوں کی تعداد کی بابت، جاہلانہ گفتگو سامنے آ جاتی ہے۔ آج بھی، وہ تمام لوگ جو کسی بھی جریدے میں قلم مزدوری کرتے ہیں، ان کا رویہ کافی حد تک ذمے دارانہ ہوتا ہے۔ لکھی ہوئی تحریر قدرے سنجیدہ ہوتی ہے۔ وثوق سے یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ پرنٹ میڈیا میں لکھنے والے سب کچھ درست لکھتے ہیں، اس میں بھی سیاسی دھڑے بازی موجود ہے، واقعات کو........
