menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Boarding Home Ki Diary Se

10 0
yesterday

بورڈنگ ہوم کی ڈائری سے

میں ایک ایسے بورڈنگ ہوم میں کام کر رہی تھی جہاں تین سال سے لے کر چھ سال کی بچیاں تھیں۔ میرے سامنے بچوں کی جذباتی ضروریات کے حوالے سے بے شمار کیسز ہیں۔ میں آج ایک اہم واقعہ شیئر کر رہی ہوں جو والدین، اساتذہ اور بورڈنگ ہومز میں بچوں کی نگہداشت پر مامور لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ایک بچہ جو اظہار کرنے کے قابل نہیں کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے، اس کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے۔

ہمارے پاس بورڈنگ ہوم میں ایک بچی، تسمیہ بتول تھیں۔ بہت بھولی اور معصوم، جو اپنی ماں کو کھو چکی تھیں اور پھر ان کے والد نے انھیں یہاں داخل کروا دیا۔ ماں کے بعد باپ کی جدائی، دوستوں اور اس محلے، گلی اور کوچے سے جدائی جہاں وہ سارا دن آزادانہ گھوما کرتی تھی۔ بورڈنگ ہوم اس کے لیے ایک قید بن گیا۔ وہ روتی رہتی، مسلسل روتی اور اچانک پیٹ درد کی شکایت کرتی۔ اسے فوری ہسپتال لے جایا جاتا، میڈیسن دی جاتیں، مگر وہ بچی اچانک پیٹ درد سے تڑپنے لگتی۔

ڈاکٹرز بھی دوائیں تبدیل کر کرکے تھک چکے تھے اور ہم اس کی صورت حال پر بہت........

© Daily Urdu