Tal Gaya Tamasha, Geneva Ki Sham Tak
ٹل گیا تماشا، جنیوا کی شام تک
عالمی سفارت کاری کے افق پر جب مفادات کی جنگ اور جنگی بساط پر مہروں کی ترتیب بدلتی ہے، تو تاریخ کے صفحات میں کچھ ایسے ابواب رقم ہوتے ہیں جو طویل مدتی تزویراتی اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ جنیوا میں انیس جون کو ہونے والا ممکنہ امریکہ اور ایران کا حالیہ امن معاہدہ محض ایک دن کی کاوش کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ان مہینوں پر محیط اعصاب شکن، طویل اور خفیہ مذاکرات کا نچوڑ ہے جس نے خطے میں ایک مہیب اور چوتھے مہینے میں داخل ہوتے ہوئے تنازعے کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم، منفرد اور نمایاں پہلو پاکستان کا بطور ایک معتبر اور کلیدی ثالث کے ابھرنا ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا تھیں اور جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے، تب اسلام آباد نے پسِ پردہ رہ کر سفارت کاری کا وہ تانا بانا بنا جس نے واشنگٹن اور تہران کو ایک ایسے عبوری فریم ورک پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ کیا جو فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی ضمانت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس تاریخی کامیابی کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ دونوں ممالک ایک ایسے امن معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں جس کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی آپریشنز کا فوری اور مستقل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اس سفارتی بریک تھرو کی باقاعدہ اور مہر بند تقریبِ دستخط انیس جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونا طے پائی ہے، جسے عالمی برادری کی جانب سے ایک بڑی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کی تفصیلات اور اب تک سامنے آنے والے اعلیٰ........
