menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Koi Bhi Muahida Mukammal Nahi

23 0
24.06.2026

کوئی بھی معاہدہ مکمل نہیں

لبنان میں ایک عورت اپنے بچے کو لے کر بھاگ رہی تھی۔ اس کے پاس وقت نہیں تھا کہ وہ یہ سوچے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے میں ہیں۔ اسے صرف یہ معلوم تھا کہ اس کا گھر جل رہا ہے اور اس کے قدموں تلے زمین کانپ رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے اس پوری کہانی کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ جب طاقتور ممالک جنگ کرتے ہیں اور پھر میز پر بیٹھ کر معاہدے کرتے ہیں، تو تاریخ میں صرف وہ معاہدے درج ہوتے ہیں، جلتے گھروں کا ذکر کہیں نہیں ہوتا۔

اس پورے بحران کا مرکزی سبق یہ ہے کہ جنگیں عموماً اس وقت نہیں رکتیں جب فریقین تھک جاتے ہیں، بلکہ اس وقت رکتی ہیں جب ایک قابل اعتماد تیسرا فریق میز پر آتا ہے۔ وہ تیسرا فریق پاکستان تھا اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ پاکستان کا اس بحران میں داخلہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ اسلام آباد وہ واحد مسلم اکثریتی ایٹمی طاقت ہے جس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ کام کرنے والے تعلقات موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر اعلان کیا کہ پاکستان مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار اور مشرف بہ خدمت ہے۔ لیکن اصل کردار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ادا کیا۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ آرمی چیف نے نہ صرف دونوں فریقوں کے درمیان فاصلہ کم کیا بلکہ ایران کے اندر موجود مختلف دھڑوں کو بھی سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی اور ایرانی وفود نے باضابطہ مذاکرات سے پہلے شریف اور منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ یعنی پاکستان کی ثالثی میں سویلین اور........

© Daily Urdu