menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pims Saniha, Meri Fidviana Sabr Se Dil Ko Tasalli Dene Ki Koshish

43 0
28.08.2026

پمز سانحہ، میری فدویانہ صبر سے دل کو تسلّی دینے کی کوشش

بدھ کی صبح اٹھتے ہی اسلام آباد کے مرکزی ہسپتال-پمز- میں 14نومولود بچوں کی آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے جاں بحق ہوجانے کی خبر دیکھی تو اس شہر کا 1975ء سے رہائشی ہوتے ہوئے یاد آیا کہ بنیادی طورپر یہ ہسپتال جاپانی حکومت کی مدد سے 1985ء میں تعمیر ہوا تھا۔ اس کے قیام کا واحد مقصد بچوں کی پیدائش کی نگرانی کے علاوہ انہیں لاحق دیگر امراض کی جدید ترمشینوں کی مدد سے تشخیص اور علاج تھا۔ اسی وجہ سے ہم اسے چلڈرن ہسپتال کے نام سے پکارتے تھے۔ بچوں کے صدقے شہر ہی نہیں پاکستان کے ہر نوعیت کے امراض کے لئے ہمہ وقت پھیلتے ہسپتال میں 26اگست 2026ء کی صبح 14نومولود بچوں کا انتہائی نگہداشت کے لئے مختص وارڈ میں جاں بحق ہوجانے کی خبر نے مذکورہ پس منظر میں مزید اداس کردیا۔

ٹی وی سکرینوں پر پمز میں بھڑکی آگ کے حوالے سے جاری بریکنگ نیوز دیکھتے ہوئے یاد یہ بھی آیا کہ جولائی کے غالباََ پہلے ہفتے میں یہاں نرسوں کے لئے مختص رہائشی عمارت کے ایک حصے میں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ خوش نصیبی سے اس پر بروقت قابو پالیا گیا۔ حادثے کی وجوہات کا تعین کرتے ہوئے مگر دریافت ہوا کہ پمز کے وسیع وعریض رقبے میں آگ پر قابو پانے کے لئے نصب ہوئے ہنگامی حالات میں درکار ا?لات وانتظامات ناکافی ہیں۔

سوشل میڈیا کی بدولت پھیلائے ہیجان کی وجہ سے ہر بری خبر سننے کے بعد فوری طورپر مشتعل ہوجانے والی قوم شاید یہ حقیقت بھی بھول چکی ہوگی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجودحکومت نے اڈیالہ جیل میں مقید سابق وزیر اعظم کے بلڈپریشر سے........

© Daily Urdu