menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Petroleum Narkh Rozana Barhne Ke Taziyane

24 0
24.07.2026

پٹرولیم نرخ روزانہ بڑھنے کے تازیانے

انتہائی آمرانہ اور سفاک حکومتیں بھی اس امر کو یقینی بناتی ہیں کہ ان کی رعایا مستقل بے چینی میں مبتلا نہ رہے۔ اسی باعث ان کی "تفریح" کے لئے روم کے حکمرانوں نے ہر بڑے شہر میں اکھاڑے بنائے جہاں غلاموں کو شیروں سے مقابلے کے لئے چھوڑ دیا جاتا۔ دورِ حاضر میں اپنے عوام کو آزادی اظہار سے قطعاََ محروم رکھنے والی حکومتیں کھیلوں کے فروغ پر توجہ مبذول رکھتی ہیں۔ روس کمیونسٹ دنیا کاقائد ہوتے ہوئے اولمپک مقابلوں میں اکثردیگر ممالک سے سب سے کہیں زیادہ طلائی تمغے حاصل کیا کرتاتھا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی آمرانہ حکومتیں کڑی نگاہ رکھتی ہیں۔

ہمارے ہاں اپریل 2022ء سے جو حکومتی بندوبست متعارف ہوا ہے وہ "ہائی برڈ" کہلاتا ہے۔ ریاست کو دیوالیہ سے محفوظ رکھتے ہوئے اسے "ہارڈ" بنانے کا متمنی بھی ہے۔ "رعایا" کے جذبات سے مگر حیران کن حد تک لاتعلق ہے۔ ہر اعتبار سے مریضانہ حد تک متعصب شخص ہی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ رواں برس کے مارچ میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی جنگ کے بعد پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بے جواز ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور گیس کے حصول کے لئے ہم خلیجی ممالک پر کامل انحصار کے دہائیوں سے عادی ہیں۔

ان میں سے سعودی عرب جیسے ملک ہمیں ادھار پر بھی تیل فراہم کرتے ہیں۔ ان ممالک سے آئی پٹرولیم مصنوعات کو مگر آبنائے ہرمز سے گزار کر پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچنا ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز اب محفوظ نہیں رہی۔ حیران کن مزاحمت کے بعد ایران نے اس آبنائے کے ذریعے بحری تجارت پر کامل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ وہ مصر ہے کہ تیل بردار جہاز محض ان "آبی شاہراہوں " سے گزریں جن کی حفاظت اس نے یقینی بنارکھی ہے۔ وہاں سے گزرنے کی وہ فی الوقت راہداری وصول کرنے کا متقاضی بھی نہیں تھا۔ امید مگر باندھے ہوئے تھا کہ جنگ بندی کے بعد ایک ماہ کے دوران ہوئے مذاکرات کے ذریعے........

© Daily Urdu