Mehez Aik Rasm Mein Tabdeel Hota Gilgit Baltistan Ka Intikhabi Amal
محض ایک رسم میں تبدیل ہوتا گلگت بلتستان کا انتخابی عمل
صحافتی زندگی میں پہلا انتخابی عمل میں نے 1984ء میں بھارت جاکر رپورٹ کیا تھا۔ وہ قبل از وقت انتخاب تھے اور وجہ اس کی اندرا گاندھی کا قتل تھا۔ دلی میں صرف ایک شخص سے شناسائی تھی۔ کلدیپ نیئر ان کا نام تھا۔ آبائی تعلق ان کا سیالکوٹ سے تھا۔ وہ بھارت کے مشہور صحافی تھے اور اسلام آباد کے روزنامہ "دی مسلم" کے لئے بھارت کے تازہ ترین حالات کے بارے میں ہفت روزہ کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ اس اخبار کا میں جونیئر رپورٹر تھا۔ بزرگوں کا "چھوٹا" ہوتے ہوئے کلدیپ نیئر جب بھی پاکستان آتے تو اکثر ان کی معاونت پر مامور کردیا جاتا۔ کلدیپ صاحب کے علاوہ میری ان دنوں دلی میں قائم پاکستانی سفارتخانے میں پریس اتاشی کے عہدے پر فائز اشفاق گوندل صاحب سے سرسری سی شناسائی بھی تھی۔
دلی روانگی سے چند روز قبل مگر گارڈن کالج کے مہا استاد رہے خواجہ مسعود صاحب اپنا کالم دینے اخبار کے دفتر آئے تو ازخود میرے ڈیسک پر تشریف لائے۔ میں احترام میں کھڑا ہوا تو انہوں نے کندھے پر تھکپی دے کر مجھے بٹھایا اور ایک کرسی کھینچ کر میرے ہمراہ بیٹھ گئے۔ پنجابی میں دُکھ کا اظہار کیا کہ میں نے انہیں دلی جانے کی اطلاع کیوں نہیں دی۔ "میرے وہاں چند تگڑے لوگ بچپن اور جوانی کے دوست رہے ہیں۔ میں انہیں تمہارے آنے کی اطلاع دیتا تو وہ تمہارے بہت کام آتے"۔ یہ کہتے ہوئے میری سرزنش کے بعد انہوں نے چند سادہ کاغذ طلب کئے اور ان میں سے تین پر مختلف لوگوں کے نام خطوط لکھے۔
مختصراََ میرے تعارف کے بعد مدد کی سفارش لکھی۔ جن تین افراد کے نام انہوں نے بے تکلف رقعات لکھے تھے میں شرم کے مارے ان کے نام نہیں لکھ سکتا۔ ان میں سے دو بہت مشہور صحافی تھے اور تیسرے صاحب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا "مارکسٹ" کے اہم ترین عہدے دار۔ ایمان داری کی بات ہے کہ دلی پہنچنے کے کئی دن بعدبھی مجھے ان سے رابطے کی جرات نہ ہوئی۔ وطن عزیز لوٹنے سے چند دن قبل ہمت دکھائی........
