Jamhuriat Behtareen Intiqam
جمہوریت بہترین انتقام
نوجوانی سے بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچتے ہوئے میری نسل کے سادہ لوح اس گماں میں مبتلا رہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ بدعنوان وسفاک حکمرانوں کے لئے انتخابی عمل احتساب کی چکی ثابت ہوتا ہے۔ یہ سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ ہر قوم کے اجتماعی تعصبات بھی ہوتے ہیں۔ انہیں بھڑکاتے ہوئے بھارت میں مودی جیسے انتہا پسند مقبولیت کی انتہائوں کو چھولیتے ہیں۔ بورس جانسن جیسے مسخرے برطانوی شناخت سے جنونی محبت کے نام پر دنیا کی قدیم ترین جمہوریت کو کھلواڑ بنادیتے ہیں اور امریکہ میں ٹرمپ دوسری بار صدر منتخب ہوکر بادشاہوں جیسی من مانیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
جمہوریت اور انتخابی عمل کی محدودات پر غور کو اسرائیل میں ہونے والے انتخاب کی وجہ سے ایک بار پھر مجبور ہوا ہوں۔ کالم چھپنے کے دن وہاں پولنگ ہورہی ہوگی۔ ذاتی خواہش تو یہ ہے کہ نیتن یاہو جیسے سفاک شخص کو اس کے ملک کے عوام ہی شکست سے دو چار کردیں۔ میری امید اگرچہ بارآور ثابت ہوتی نظر نہیں آرہی۔
صیہونی تعصبات کی بدولت قائم ہوئی ریاست اسرائیل خود کو "دشمنوں "کے سمندر میں گھرا ہوا محسوس کرتی ہے۔ اپنی بقا کے خوف میں مبتلااس ریاست کی بھاری بھر کم اکثریت کو چکنی چپڑی باتوں سے نیتن یاہونے اپنے بارے میں سخت گیر محافظ ہونے کا تاثر دیا۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے تمام وعدوں کو رعونت سے رد کرتے ہوئے عظیم تر اسرائیل کے خواب دکھائے۔ جو خواب بیچے ان کی بدولت تین مختلف ادوار میں وہ 19برس تک اسرائیل کا وزیر اعظم رہا ہے۔
اسرائیل کی بقا یقینی بنانے کے نام پر اس کی مسلط کردہ انتہا پسندی اور سخت گیر پالیسیوں کے باوجود 2023ء کی 7اکتوبر کے دن فلسطینی مزاحمت کاروں کی تنظیم-حماس- نے طویل منصوبہ بندی کے بعد گوریلا حملوں کی........
